خطبات محمود (جلد 1) — Page 20
کھاؤ۔کیوں؟ اس لئے کہ آج تمہیں خدا کی عبادت کرنے کا پہلے سے زیادہ موقع ملا ہے۔یہی تو عید ہے۔پس خدا تعالٰی نے بتا دیا کہ مومن کی عید یہ ہوتی ہے کہ اللہ اس پر خوش ہو جائے اور جوں جوں مومن کو اللہ کے قرب کی راہ ملتی ہے اتنی ہی اس کے لئے عید ہوتی جاتی ہے۔چنانچہ ہماری دونوں عیدیں بلکہ تینوں عیدیں خدا تعالیٰ نے ایسی ہی رکھی ہیں جن میں عام دنوں کی نسبت عبادت میں کچھ زیادتی کر دی ہے۔دو عیدیں تو وہ ہیں جو ہمارے ملک میں چھوٹی اور بڑی کے نام سے موسوم ہیں۔معلوم نہیں چھوٹی اور بڑی کا فرق کس خوردبین سے دیکھا گیا ہے۔تیسری جمعہ کی عید ہے۔کے بمعہ کے دن ایک خطبہ رکھ دیا ہے اور اس طرح نماز کو بڑھا دیا ہے۔گو فرض چار رکعت کی بجائے دو کر دیئے ہیں لیکن خطبہ اور دو رکعت کا وقت ملا کر چار رکعت سے بڑھ جاتا ہے۔یہ دو عیدیں جو سال میں آتی ہیں ان میں سے ایک ماہ رمضان کے روزے رکھنے کے بعد آتی ہے اور دوسری عید وہ ہے جو ایام حج کے بعد آتی ہے اس سے پتہ لگتا ہے کہ مومن کی عید میں اس وقت ہوتی ہیں جب کہ وہ خدا تعالیٰ کے رضا کے سامان پیدا کرے۔خدا تعالیٰ نے سال میں دو عیدیں رکھ کر گویا نمونہ بتایا ہے۔دنیاوی گورنمنٹیں بھی نمائشیں کرتی ہیں جن سے ان کی یہ غرض ہوتی ہے کہ لوگوں کو مختلف اقسام کے مال اسباب دکھائے جائیں اور ان سے فائدہ اٹھانے کی تحریک کی جائے۔عیدمیں آسمانی بادشاہت کی نمائشیں ہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ نمونہ بتا کر مسلمانوں کی اس طرف راہنمائی کی ہے کہ اگر تم چاہو تو ہر روز عید کر لو۔اس لئے مومن کی ہر روز ہی عید ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے بار بار فرمایا ہے اور اگر گنا جائے تو سینکڑوں تک نوبت پہنچتی ہے۔کہیں صریحا اور کہیں کنایہ کہ مومن کی جنت اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے ۳۔تو عید میں نمائش ہیں۔ان میں خدا تعالیٰ نے یہ دکھایا ہے کہ اگر تم خوشی کے دن لینا چاہتے ہو تو اس کا یہی طریق ہے کہ خدا کو راضی کر لو۔اور جب خدا راضی ہو گیا تو پھر ہر روز عید ہی عید ہے۔پس عیدیں اس بات کا نمونہ ہیں کہ انسان خدا تعالیٰ کے قرب کے راستے تلاش کرے اور جب کسی نے خدا کو راضی کر لیا تو جتنا بھی وہ خوش ہو اور فخر کرے بجا ہے۔اور جیسی کچھ بھی زینت کرے درست ہے۔کیونکہ جس پر خدا خوش ہو گیا اسے کو نسا غم اور رنج رہ سکتا ہے۔تو مومن کی عید یہی ہے کہ خدا کی رضا کے طریق تلاش کرے۔کسی مومن کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی عید کا دن