خطبات محمود (جلد 1) — Page 190
19۔چکیں تو پھر ان کے لئے انعام مقرر کرتے ہیں مثلا یہ کہ جتنے لڈو کوئی کھائے اتنے ہی روپے دیئے جاتے ہیں۔پھر فی لڈو دو روپیہ تین روپیہ دینے لگ جاتے ہیں۔یہ لوگ بھی کئی کئی مہینے قبل زیادہ کھانے کی مشق شروع کر دیتے ہیں۔ان میں زیادہ شریف خاندان وہی سمجھا جاتا ہے جس میں زیادہ حادثات ایسے ہو چکے ہوں کہ زیادہ کھانے کی وجہ سے موت واقع ہو چکی ہو۔ایک قصہ مشہور ہے کہتے ہیں ایک برہمنی ساس نے اپنی بہو سے کہا تیرا خاوند اور خُسر آئیں گے اور زیادہ کھانے کی وجہ سے وہ بیٹھ نہیں سکیں گے اس لئے ان کے آنے سے قبل بستر بچھا دو تاکہ وہ آتے ہی لیٹ جائیں۔اتنا سننا تھا کہ بہو چیچنیں مار کر رونے لگ گئی اور عائیں دینی شروع کر دیں کہ پر میشور میرے ماں باپ کا بیڑا غرق کرے انہوں نے مجھے ذلیل کر دیا۔ساس بہتیرا چپ کراتی اور رونے کا سبب دریافت کرتی مگر وہ زیادہ سے زیادہ شور مچاتی جاتی۔ساس ہاتھ جوڑتی ، پاؤں پڑتی اور دریافت کرتی کہ آخر میں نے کیا کہا جو تم اس طرح رو رہی ہو مگر وہ برابر روتی جاتی اور کوئی جواب نہ دیتی حتی کہ شور سن کر محلہ کے لوگ جمع ہونے شروع ہو گئے اور انہوں نے بھی رونے کی وجہ پوچھنی شروع کی۔بہت اصرار کے بعد اس نے بتایا کہ میری قسمت تو برباد ہو گئی کہ میں ایسے کمینے خاندان میں بیاہی گئی جس کے افراد شرادھ کھانے کے بعد پیدل چل کر گھر آجاتے ہیں۔ہمارے خاندان کے آدمی تو کھانے کے بعد چل ہی نہیں سکتے اور ڈولیوں میں پڑ کر آتے ہیں۔اگر چہ ہندوؤں میں شرادھوں کی یہ حالت ہو گئی ہے لیکن معلوم ہوتا ہے یہ در حقیقت اسی نکتہ سے نکلے ہیں اور ان کا بھی کسی زمانہ میں وہی مفہوم تھا جو ہماری عید کے دن کھانے کا ہے کہ چونکہ اس دن کھانے پینے کا حکم خدا نے دیا ہے اس لئے اصل کھانا اسی دن کا ہے۔مگر لوگوں کی نا سمجھی سے اب یہ ایک عجیب کی رسم بن گئی ہے۔دراصل حکم یہی ہو گا کہ خدا کے لئے کھاؤ لیکن جس طرح بیوقوف ملانوں نے عید کا یہ مفہوم سمجھ لیا کہ اتنا کھانا کھانا چاہئے کہ یا تمہ ہو جائے یا ہیضہ۔اسی طرح پنڈتوں نے بھی غلط سمجھ لیا۔دراصل شرادھ کا مطلب بھی یہی ہو گا۔اور رسول کریم میں یا تو وہ ملک کے اس ارشاد کا کہ یہ کھانے کا دن ہے یہی مطلب ہے کہ آج انسان خدا کے لئے کھاتا پیتا ہے یہ نہیں کہ اتنا کھاؤ کہ بد ہضمی کی ڈکاریں آنی شروع ہو جائیں اور عارف لوگ تو ایسے خوشی کے موقع پر اپنی مقدار کے لحاظ سے بھی کم کھاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا نزول ہو رہا ہوتا ہے اور ان کا خیال اس طرف لگا ہوتا ہے کھانے کی طرف ان