خطبات محمود (جلد 1) — Page 180
۱۸۰ ہماری نمازوں ، ہمارے روزوں ، ہمارے حج، ہماری زکوة کی حقیقت دوسروں کی نمازوں روزوں، زکوۃ اور حج سے بدل نہیں گئی تو ہمیں دوسروں پر کوئی فضیلت نہیں اور ہم جو دعوئی کرتے ہیں وہ محض لاف و گزاف جھوٹ اور فریب ہو گا کیونکہ اس میں حقیقت نہ ہوگی اور ہمارے جیسا مکار اور فریبی اور کوئی نہ ہو گا کہ ہم اپنے سوا ساری دنیا کو ہدایت سے محروم قرار دیتے ہیں مگر اپنے اندر دوسروں کے مقابلہ میں کوئی تبدیلی نہیں پیدا کرتے۔میں مانتا ہوں۔الْإِنْسَانُ مُرَكَّبٌ مِنَ الْخَطَا وَالنِّسْيَانِ - ال اور اعلیٰ مقام پر پہنچے ہوئے انسان سے بھی خطا ہو سکتی ہے ۲۲ مگر باوجود اس کے اس میں کھری باتیں بھی ہوتی ہیں اس لئے وہ باوجود بعض کمزوریوں کے سونا اور کندن ہی ہوتا ہے۔سوال یہ ہے کہ کوئی حقیقت زائدہ پائی جاتی ہے یا نہیں۔اگر پائی جاتی ہے تو بعض کمزوریاں جو انسانیت کے ساتھ لگی ہوئی ہیں نظر انداز بھی کی جا سکتی ہیں لیکن اگر حقیقت زائدہ نہیں پائی جاتی تو پھر نہیں مان سکتے کہ وہ شخص یا جماعت دو سروں پر کسی قسم کی فضیلت رکھتی ہے۔میں اپنی جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نماز، روزہ، حج، زکوۃ غرض ہر فعل جس کے کرنے کی اسے توفیق ملے اس کی حقیقت اور روح حاصل کرے تا دنیا میں اسے امتیاز حاصل ہو اور جو دعوئی وہ کرتی ہے اس میں راستباز قرار پائے۔میں دعا کرتا ہوں کہ ہم میں وہ روح پائی جائے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام دنیا میں قائم کرنے آئے تھے۔اور ہم خدا کے فضل سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے نفوس کو پاک کر دے گا اور ہماری کمزوریوں کو دور کر دے گا میں ان سب دوستوں کے لئے جو یہاں ہیں یا یہاں نہیں ، بچوں اور بڑوں کیلئے ، غریبوں اور امیروں کیلئے ، بیماروں اور تندرستوں کیلئے غرضیکہ سب کے لئے دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان پر اپنا فضل کرے۔(الفضل المارچ ۱۹۳۰ء) "مفتاح الصلوة "الطهور " ترمذى كتاب الطهارة باب ماجاء ان مفتاح الصلوة الطهور صحيح بخارى كتاب الاذان باب من جلس في المسجد ينتظر الصلوة نیل الاوطار جلدا صفحه ۱۸۱ - ابواب :