خطبات محمود (جلد 1) — Page 18
1 ۱۸ (۴) فرموده ۱۳۔اگست ۱۹۱۵ء بمقام مسجد اقصی۔قادیان) تمام قوموں میں بعض دن عید کے سمجھے جاتے ہیں۔ان میں لوگ اکٹھے ہو کر خوشیاں مناتے ہیں۔اس سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ قوم کے مختلف افراد آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر وہ کوفت اور تھکان جو گذشتہ محنت کے دنوں میں ان کے جسموں پر وارد ہوئی ہے دور کریں۔اور اس خوشی کے ذریعہ اپنے رنجوں اور دکھوں کو دور کر کے تازہ دم ہو جائیں کیونکہ انسانی طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ اس کے لئے بعض دفعہ بناوٹ کا رنج رنج ہو جاتا ہے اور بعض اوقات بناوٹ کی خوشی اصل خوشی ہو جاتی ہے۔چنانچہ اگر ذرا غمگین چہرہ بنایا جائے تو فوراً طبیعت میں بھی غم آجاتا ہے۔اور اگر ذرا خوشی کا چہرہ بنایا جائے تو باوجود رنج اور غم کے انسان بننے لگ جاتا ہے۔اور اس طرح بہت کچھ غم کم ہو جاتا ہے۔اس لئے عیدین اور خوشی کے دن لوگوں کی خوشیوں اور غموں پر بہت کچھ اثر ڈالتے ہیں اور لوگ ان کے ذریعہ اپنی مصیبتوں کو کم کرتے ہیں۔اسی لئے ہر قوم اور ہر ملک میں عید کا رواج ہے حتی کہ افریقہ کے حبشی جن کا کسی مہذب ملک سے تعلق نہ تھا ان کی نسبت بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کے خاص تہوار تھے جن میں وہ خوشیاں کیا کرتے تھے۔پس معلوم ہوا کہ عید منانا ایک فطرتی تقاضا ہے۔چونکہ فطرتِ انسانی چاہتی ہے کہ اس کے بوجھ ہلکے ہوں، رنج دور ہوں اور خوشی قائم ہو اس لئے ضروری تھا کہ کوئی ایسا دن مقرر کیا جاتا جس میں انسان اپنے غموں کو دور کر کے یا کم از کم انہیں بھلا کر زینت کے سامانوں سے آراستہ ہو کر خوشی خوشی لوگوں کے ساتھ بیٹھے اور ملے اور اس کے دل میں کتنا ہی رنج اور تکلیف ہو تو بھی خوشی کا اظہار کرے۔اس فطرتی تقاضا کو پورا کرنے کے لئے تمام مذاہب نے عیدیں رکھی ہیں اور اسی غرض کیلئے اسلام نے بھی۔مگر اسلام کی عیدوں اور دوسرے مذاہب کی عیدوں میں ایک بہت بڑا فرق ہے۔دوسرے مذاہب نے تو یہ مد نظر رکھا ہے کہ انسان کی اُمنگیں اور خواہشیں کیا چاہتی ہیں۔مگر اس بات کو مد نظر نہیں رکھا کہ ان اُمنگوں کو نیکی اور بھلائی کی طرف پھیرنے کے لئے کون سی بات کی