خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 115

۱۱۵ یہاں تک کہ عید کا دن یعنی ترقی کا زمانہ آجاتا ہے اور وہ لوگ جو مخالفت کرتے ہیں اور نبیوں کے دکھ کے زمانہ میں اس کا ساتھ نہیں دیتے وہ بھی بچوں کی طرح آکر ان کی عید میں شامل ہو جاتے ہیں اور اپنا حق طلب کرتے ہیں۔غرض جس طرح رمضان میں انسان فاقے رہتا ہے۔بعینہ اسی طرح نبی کے متبع لوگوں کو شروع زمانے میں بھوکا رہنا پڑتا ہے۔اور جس طرح رمضان میں بیوی سے صحبت کرنا ترک کی جاتی ہے اور اس کو چھوڑا جاتا ہے بعینہ اسی طرح بیوی اور بچوں کو نبی کے متبع لوگوں سے نبی کے شروع کے زمانہ میں چھڑایا جاتا ہے اور ایک نبی کو مانے والا نبی کی خاطر اپنے سب عزیز سے عزیز رشتہ داروں کو چھوڑ کر نبی کے ساتھ ہو جاتا ہے کیونکہ ایسی حالت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا - تک ظالم لوگوں کی صحبت میں نہ رہو۔اور بعض دفعہ زبر دستی ان سے جدا کیا جاتا ہے اور دوسرے رشتہ دار اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اس پر جبر کرتے ہیں اور اس کو نکال دیتے ہیں۔پھر جس طرح رمضان میں لوگ صدقے دیتے ہیں اسی طرح نبی کے متبع لوگوں کو چندے دینے اور پھر ان کو رمضان میں عبادتیں کرنی پڑتی ہیں۔که بعینہ اسی طرح جس طرح نبی کے قبع لوگ اس کی بعثت کے شروع زمانے میں ترقی کے لئے عبادتیں کرتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں کہ ان کی زیادتی ہو۔پس انبیاء کے ماننے والے مال کی بھی قربانی کرتے ہیں، عبادتیں بھی کرتے ہیں اور ان کے ماننے کی وجہ سے رشتہ داروں کو بھی چھوڑتے ہیں وہ ان کی پروا نہیں کرتے اور یہ وہی تیز نظر والے لوگ ہوتے ہیں جو ۲۹ تاریخ کے چاند کو دیکھتے ہیں اور ان مصائب کو قبول کرتے ہیں جو ان کو انبیاء کے ماننے سے اٹھانے پڑتے ہیں اور تکالیف پر صبر کرتے ہیں مگر نبیوں کا ساتھ نہیں چھوڑتے۔لیکن وہ نادان جو بچے کی طرح ہیں عید کا انتظار کرتے ہیں اور نبیوں کے ساتھ مصائب اٹھانے میں شریک نہیں ہوتے۔وہ کہتے ہیں کہ کیوں ان کے ساتھ ظاہری شان و شوکت نہیں۔کیوں نہیں ان کی صداقت کی تمام دنیا فورا قائل ہو جاتی ہے اور ان کے جھنڈے کے نیچے آجاتی ہے۔پس وہ ایسی باتوں کا مطالبہ کرتے ہیں یہاں تک کہ چاند چڑھتا ہے اور زمانہ ترقی کرتا ہے تب اقرار کرتے ہیں کہ یہ سچا نبی تھا۔نبی اپنی زندگی میں ایک بیج ہو جاتا ہے جو آہستہ آہستہ نشو و نما پاتا ہے ، اور یہ بیج لیلۃ القدر میں بویا جاتا ہے۔اور جو جو کمالات اس کی قوم نے حاصل کرنے ہوتے ہیں ان کا