خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 97

96 خوش ہونے کے ایسے شخص کو بد دعائیں دے گی کیونکہ وہ اس تکلیف کو تکلیف نہیں خیال کرے گی۔یا ایک طالب علم جو تعلیم کے فوائد سے واقف ہے راتوں کو جاگتا ہے وہ اس تکلیف کو تکلیف نہیں خیال کرتا۔اس طرح وہ تکلیف جو خدا کے دین کی خدمت کرنے پر ملے یا آگ میں پڑنا پڑے وہ تکلیف در حقیقت تکلیف نہیں۔تم نے خدمت دین کے لئے مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر اقرار کیا ہے کہ تم دین کے مقابلہ میں دنیا کی پروا نہیں کرو گے اور تکالیف سے گھبرا کر دین کا پہلو نہیں چھوڑو گے۔اللہ تم نے جو قصد اور ارادہ کیا ہے اگر تم اس کو پورا کرو تو یہ بڑی خوشی کی بات ہے اور اس سے بڑی نعمت اور کوئی نہیں ہو سکتی۔وہ ارادہ یہ ہے کہ خدا کے حاصل کرنے کے لئے ہر ایک تکلیف کو خوشی سے برداشت کرو گے۔کیا یہ ہو سکتا ہے کہ ایک عورت اپنے بچے کی راحت کے لئے تو تکلیف اٹھا سکتی ہے اور ایک طالب علم ایک زبان سیکھنے کے لئے جو زیادہ سے زیادہ تمہیں چالیس سال کے لئے اس کو نفع دے سکتی ہے مشقت برداشت کر سکتا ہے لیکن تم خدا کے حاصل کرنے کے لئے کوئی بڑی سے بڑی تکلیف نہیں برداشت کر سکتے حالانکہ اس راہ میں جو تکلیف ہو وہ ہے ہی کیا اور کتنی کیونکہ اس کا نتیجہ ابدی راحت اور آرام ہے۔پس یقیناً جان لو کہ خدا کے لئے تکلیف اٹھانا بڑی نعمت اور بڑا آرام ہے۔خدا کے لئے بھوکا رہنا لذیذ ترین کھانا کھانے سے زیادہ اچھا ہے۔جو خدا کے لئے نگا رکھا جائے خدا اس کو ننگا نہیں رکھے گا اور کسی عزیز کی محبت خدا کی محبت کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔پس جو خدا کے لئے عزیزوں کو چھوڑتا ہے خدا تعالیٰ اس کو بہت سے اعلیٰ درجہ کے محبت کرنے والے دیتا ہے جو خدا کے لئے وطن چھوڑتا ہے خدا اس کو بہتر وطن دیتا ہے۔حضرت ابو بکر کا ذکر ہے آپ کے ایک بیٹے اسلام لانے میں پیچھے رہ گئے تھے۔انہوں نے ایک دفعہ کہا کہ میں ایک دفعہ جنگ کے موقع پر اگر چاہتا تو آپ کو مار ڈالتا ( کیونکہ وہ کافروں کی طرف سے جنگ کر رہے تھے اور حضرت ابو بکر مسلمان تھے مگر میں نے باپ سمجھ کر چھوڑ دیا۔حضرت ابو بکر نے فرمایا۔خدا کی قسم ! اگر میں تمہیں دیکھتا تو ضرور مار ڈالتا۔ا جو شخص خدا کے لئے اپنے کھانے پینے ، عزیز و اقارب گھر بار اور وطن ، جائدادیں اور املاک چھوڑتا ہے خدا اس کی کسی ایک چیز کو بھی ضائع نہیں کرتا بلکہ جو کچھ وہ قربان کرتا ہے وہ ایک بیج کی مانند ہوتا ہے جسے خدا تعالیٰ کئی گنا بڑھا کر اس کو واپس دیتا ہے۔سلا اور اسے بہت بہتر انعام عطا فرماتا ہے۔صحابہ نے خدا کے لئے قربانیاں کیں مگر جو کچھ ان کو خدا کی طرف