خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 70

باغ میں ہوتے ہیں جہاں کوئی آفت اثر نہیں کر سکتی۔وہ ہر دکھ سے محفوظ ہوتے ہیں اور ایسے مصائب جو دنیا کی کمر توڑ دینے والے ہوتے ہیں ان پر کوئی اثر نہیں کرتے۔مبارک احمد جس دن فوت ہوا۔۱۲ میں پاس ہی تھا میں نے دیکھا کہ حضرت مولوی صاحب نبض دیکھ رہے تھے۔سلا کہ یہ کہتے ہوئے کہ حضرت مُشک لاؤ۔حضرت مشک لاؤ لڑکھڑا کر زمین پر بیٹھ گئے۔حضرت صاحب ۱۴ نے ٹرنک کھولا۔آخر آپ سمجھ گئے کہ فوت ہو گیا ہے۔آپ نے کاغذ اور قلم دوات لے کر خطوط لکھنے شروع کر دئے ھا، جن میں لوگوں کو تسلی دیتے ہوئے لکھا۔مبارک احمد کی وفات خدا کا ایک نشان ہے کیونکہ اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی خدا نے کہا تھا کہ یہ چھوٹی عمر میں فوت ہو جائے گا۔11۔حضرت مولوی صاحب نے بعد میں فرمایا کہ اُس وقت میری حالت اس لئے ایسی ہو گئی تھی کہ میں نے خیال کیا کہ حضرت صاحب کو جو اس سے اتنی محبت ہے اور اب یہ فوت ہو گیا ہے تو اس سے آپ کی طبیعت پر بہت اثر پڑے گا۔اس خیال سے میری حالت غش کے قریب پہنچ گئی تھی اور اگر میں کھڑا رہتا تو ضرور غش کھا کے گر جاتا۔ایسا ہی اور لوگوں کا اس وقت خیال تھا کہ خدا جانے اس واقعہ کا حضرت صاحب پر کیا اثر ہوتا ہے مگر آپ کے چہرے پر کوئی رنج و غم نہ تھا نہ کوئی آنسو آپ کی آنکھوں میں تھا۔یہ عید ہے جو مومن کو حاصل ہونی چاہیئے۔ورنہ یہ عید نہیں کہ کپڑے سفید پہن لئے جاویں۔جب دل رنج میں ہو تو عید کیسے ہو سکتی ہے۔عید اسی کی ہے جس کا دل خوش ہو۔اور دل اس کا خوش ہو سکتا ہے جس کو اس کا خدا مل جائے یا اس کے حصول کے ذرائع مل گئے ہوں۔اور جو خدا کے انعام کا وارث ہوتا ہے دنیا اس کو دیکھ کر حیران ہو جاتی ہے کیونکہ خدا کے عبد کے لئے کوئی رنج نہیں۔وہ نفس مطمتہ ہوتا ہے اور ایسی جگہ ہوتا ہے جہاں خدا اس سے راضی اور وہ خدا سے راضی۔یہ عید اس کے لئے خدا کی رضا کے لئے نشان ہو جاتی ہے اور خدا کے فرشتے اس کے محافظ اور پہرہ دار ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو ایسی ہی (الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۱۹ء) عید نصیب کرے۔الفجر : ۲۸ تا ۳۱ منن الرحمن : صفحه ۱۲- ۱۳ مفردات امام راغب زیر لفظ " عود"