خطبات محمود (جلد 1) — Page 442
م سوم بیوی بچوں کو پینے کے لئے دیا۔اے میرے رب! اگر میری یہ نیکی صرف تیرے ہی لئے تھی اور اس میں دنیا کی کوئی ملونی نہیں تھی اور میرا یہ عمل محض تیری رضا کے لئے تھا تو میں اس کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ میری نجات کی کوئی صورت پیدا فرما۔اس نے یہ دعا کی ہی تھی کہ بجلی دوسری بار چمکی اور اس پتھر پر گری جس پر اس کا تیسرا حصہ غار کے منہ سے پرے ہٹ گیا۔اسی طرح باقی دو نے بھی دعائیں کیں اور ان کی دعا کے نتیجہ میں پتھر کا تیسرا تیسرا حصہ غار کے منہ سے ہٹتا گیا اور آخر غار کا منہ کھل جانے پر وہ آزاد ہو گئے۔اے میرے مضمون کے ساتھ ان تینوں میں سے صرف پہلے شخص کی دعا کا ہی تعلق ہے۔لوگوں میں اپنے رشتہ داروں کے لئے محبت اور قربانی کے جذبات بے شک ہوتے ہیں مگر کتنے ہیں جو ماں باپ کی عزت کرتے ہیں۔بعض تو یہی خیال کرتے ہیں کہ بیوی بچوں کے اخراجات سے کیا کچھ بچتا ہے کہ ماں باپ کو دیا جائے۔یا پھر افسوس کا اظہار کر دیتے ہیں کہ ہم اپنے ماں باپ کی کچھ خدمت نہیں کر سکے حالانکہ بات معمولی ہوتی ہے صرف نقشہ الٹنا ہوتا ہے۔اگر خدمت کا نقشہ الٹ جائے تو اخلاق قائم ہو جائیں۔مثلاً الف ب اور ج تین افراد ہیں۔الف ب کی خدمت کرتا ہے اور ب ج کی خدمت کرتا ہے اور بد اخلاق بنتے ہیں۔اگر یہ نقشہ الٹ جائے کہ ج ب کی خدمت کرے اور ب الف کی خدمت کرے تو خدمت بھی ہو جائے اور اخلاق بھی قائم رہیں۔صرف ارادہ بدلنے کی دیر ہے اور اگر ارادہ بدل جائے گا تو خدمت ساروں کی ہوتی رہے گی۔نہ ماں باپ خدمت سے رہ جائیں گے اور نہ بیوی بچے لیکن نقشہ بدل جائے گا۔غرض انسان کے اخلاق میں مختلف جذبات ہیں لیکن سب اخلاق میں سے جو زیادہ قیمتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی محبت ہے۔ہم دوسری تمام چیزوں کے ساتھ کسی نہ کسی رنگ میں ترجیحی سلوک کر دیتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے متعلق ہمارا سلوک بہت ہی کم ترجیحی ہوتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ زبان پر ذکر بہت ہوتا ہے گو بعض کی زبان پر بھی ذکر نہیں ہو تا لیکن بہتوں میں ہوتا ہے مگر یہ ذکر بھی زبان تک رہ جاتا ہے نیچے نہیں جاتا۔جیسے رسول کریم ملی کے زمانہ میں ایک یہودی عالم تھا وہ رسول کریم میں الہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کی باتیں سنتا رہا۔باتیں سننے کے بعد اس کے بھائی نے اس سے پوچھا بتاؤ تم نے کیا نتیجہ نکالا ہے۔وہ کہنے لگا جو باتیں اس نے کی ہیں وہ تو سچی ہیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیشگوئیاں بھی کچی معلوم