خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 408

۴۰۸ وہ جانی ہو، خواہ مالی ہو، خواہ عزت کی ہو ، ہم دریغ نہیں کریں گے اور ہمارا اس عہد کے بعد خوشی منانا ایسا ہی ہوتا ہے جس طرح بچے کی پیدائش کے بعد ماں باپ خوشیاں مناتے ہیں اور اس بچے سے بہت بڑی امیدیں لگاتے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ یہ بچہ ہمارے لئے برکت کا موجب ہوگا حالانکہ بعض بچے بڑے ہو کر والدین کے سخت نافرمان اور ان کے لئے باعث تکلیف بنتے ہیں لیکن ان کی پیدائش کے وقت ان کے والدین نیک امیدیں لگائے ہوتے ہیں۔عید الاضحیہ ہماری روحانی پیدائش کا دن ہوتا ہے۔اس دن ہم اللہ تعالیٰ کے رستے میں قربانی کرنے کا عہد کرتے ہیں اور عید الفطر کر کے ہم اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم نے جو عہد کیا تھا اسے پورا کر دیا ہے اور جمعہ کی عید سے اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم ایک ہاتھ پر جمع ہیں۔جمعہ کی عید بار بار رکھی گئی ہے اور باقی دونوں عید میں بہت وقفے پر رکھی گئی ہیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ عیدیں عہدوں کے اعلان یا ان کے پورے ہونے کا اعلان ہوتی ہیں اور قومی عہد باندھنے کا زمانہ دور ہوتا ہے اور نہ قومی عہد ایک دو دن میں پورے ہوتے ہیں بلکہ اس کے لئے بعض دفعہ مہینوں بعض دفعہ سالوں کی ضرورت ہوتی ہے اور بعض دفعہ ربع صدی اور بعض دفعہ ثلث صدی میں جا کر وہ عمد پورا ہوتا ہے لیکن اجتماع اور اتحاد ایک ایسی چیز ہے جس کی ہر روز اور ہر ہفتہ ضرورت ہے اس لئے یہ عید ہفتہ کے بعد رکھی گئی تاکہ یہ عہد بار بار دہرایا جائے اور اس سے ہمیں جمع ہو کر اور متحد ہو کر کام کرنے کی عادت پڑ جائے۔لیکن قربانی کا عہد کرنا اور اسے پورا کرنا یہ کبھی کبھار ہوتا ہے اس لئے سال میں ایک دفعہ عید الاضحیہ اور ایک دفعہ عید الفطر آتی ہے لیکن بعض لوگ ان سب باتوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے کہ وہ کسی قربانی کا عہد کریں یا اس عہد کو پورا کریں عید منانے کے لئے سب سے آگے ہوتے ہیں۔قادیان میں ایک دوست اس قسم کے تھے نہ وہ مسجد میں آتے اور نہ ہی روزہ رکھتے لیکن عید کے دن سب سے اونچا بالشت بھر طرہ رکھ کر خوشبو کیں لگا کر سب سے آگے بیٹھنے کی کوشش کرتے اور لوگ اکثر ان کا مذاق اڑاتے کہ یہ خوب ہے نہ روزہ رکھا نہ نمازیں پڑھیں اور عید کے لئے سب سے آگے آبیٹھے ہیں ایسی عید کوئی عید نہیں۔اگر روزے نہیں رکھے ، فرض ادا نہیں کیا تو عید کیسی۔عید کے صرف تین موقعے ہیں۔اول یہ کہ ساری قوم قربانی کرنے کا اقرار کرے۔دوسرے یہ کہ قوم اس عہد کو پورا کر دے تیسرے یہ کہ ساری قوم اپنے اندر اتحاد کی روح پیدا کرے اور ایک ہاتھ پر جمع ہو جائے۔یہ تین موقعے ہیں جو عید کہلانے کا حق رکھتے