خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 388

۳۸۸ اختیار کرتے ہیں تا نمازوں میں آسانی پیدا ہو سکے اور تاوہ غریبوں کے ساتھ آسانی سے مل سکیں اور اس طرح جماعت کے غریب طبقہ کو ابھارنے کی کوشش کرتے ہیں وہ بھی دین کے لئے اپنی جان کو قربان کرنے والے ہیں۔یا جو شخص امیر ہونے کے باوجود سادہ کھانا کھاتا ہے تاوہ دین کے لئے روپیہ بچا سکے ، تا غریبوں کے لئے اس کا دستر خوان وسیع ہو اور تا جماعت میں غریب اور امیر کے بے تکلفانہ میل جول کی روح پیدا ہو اور غریب طبقہ میں حرص و آز کے پیدا ہونے کا موجب نہیں بنتا وہ گو اپنے گلے پر خنجر نہیں پھیر تا مگر پھر بھی وہ اپنے دین کے لئے اپنی جان کو قربان کرنے والا ہے۔اور بھی کئی طریق ایسے ہیں کہ انگریزی حکومت کے قانون کے اندر رہتے ہوئے بھی اور شرعی احکام کی پابندی کرتے ہوئے انسان دین کے لئے اپنی جان قربان کر سکتا ہے۔انگریزی قانون میں اپنا مال اور اپنے وقت اور اپنے جذبات کی قربانی کوئی جرم نہیں خنجر مار کر خود کشی کرنا البتہ جرم ہے اور اس سے اسلام بھی روکتا ہے۔اس زمانہ میں حقیقی قربانی یہی ہے کہ انسان اسلام کے لئے اپنا مال اپنا وقت اور اپنے جذبات کو قربان کر دے اور جب ساری جماعت میں یہ حالت پیدا ہو جائے اور ہر چھوٹا بڑا ہر امیر غریب اس قربانی کے لئے تیار ہو جائے جیسے رمضان سب امیروں اور غریبوں ، چھوٹوں اور بڑوں کے لئے یکساں ہوتا ہے تو پھر حقیقی عید آسکتی ہے۔جس طرح رمضان میں ہر ایک کو اپنی طاقت کے مطابق قربانی کرنی لازمی ہے تا عید آئے اسی طرح ماموروں کے زمانہ میں بھی ہر ایک کے لئے اپنی طاقت کے مطابق قربانی کرنا لازمی ہوتا ہے اور جو پیچھے رہتا ہے اس کا بوجھ ساری قوم پر پڑتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ جو سُست ہیں ان کو آگے کیا جائے۔محمد مصطفی میں نے خلعت انعام بنا کر تیار کر رکھا ہے ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم اس تالہ کے لئے جس کے اندر وہ ہے کنجی تیار کر لیں اور اپنے دلوں کو اس ہتھوڑے کے نیچے لے آئیں جس کی زد میں آنے سے وہ چابی تیار ہوتی ہے جس سے وہ تالہ کھلتا ہے اور وہ خلعت مسلمانوں کو مل سکتا ہے اور ہمارے لئے حقیقی عید کا دن ہو گا جب یہ خلعت حاصل ہو جائے گا لیکن اگر یہ نہیں ملتا تو عید کا دن ہمارے لئے خوشی کا نہیں بلکہ موت کا دن ہو گا۔اور اگر ہم اس حقیقی عید کو نہ لا سکے تو ہم سے زیادہ ذلیل قوم اور کوئی نہ ہوگی۔ہر ایک کے لئے آج دنیا میں سر چھپانے کی جگہ ہے مگر محمد رسول اللہ اللہ کی امت کے لئے نہیں۔اور کیسی بد نصیب ہوگی وہ قوم جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے عید کا دن مقدر کیا ہے مگر وہ تھوڑی سی قربانی نہ کرنے کی وجہ سے اس عید کے دن کو