خطبات محمود (جلد 1) — Page 385
۳۸۵ ہے کہ تم اس جنت سے باہر رہو لیکن اگر تم چاہو تو میں تم کو اس میں داخل کر سکتا ہوں تو وہ اس جنت پر کبھی تھوکتے بھی نہ۔مومن تو اس لئے جنت کو پسند کرتا ہے کہ اس میں جانا اس کے محبوب کی خواہش ہے اسی لئے خدا تعالیٰ نے جہاں جنت کا وعدہ فرمایا وہاں اپنے عاشقوں کا دل رکھنے کے لئے یہ فرمایا کہ فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي ؟ یعنی اے پاکیزہ روح فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِی تو میرا سچا اور فرمانبردار بندہ ہوتے ہوئے اس باغ داخل ہو جا۔جس میں میں بھی تیرے ساتھ ہوں گا۔اس میں دو وجوہ بتائی ہیں کہ مومن جنت میں کیوں داخل ہو گا۔ایک تو اس لئے کہ وہ میرا فرمانبردار ہو گا اور دوسرے میں اور وہ اکٹھے اس میں ہوں گے۔اس آیت میں اللہ تعالٰی مومن کو گویا یہ بتاتا ہے کہ میں جانتا ہوں تو جنت کی خاطر جنت میں نہیں جائے گا بلکہ میرے قرب کی وجہ سے جائے گا۔اس میں جنت کے انعام کو ایسا حقیر بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب تک میں بندہ سے یہ نہ کہوں گا کہ اس میں داخل ہونے میں میری اطاعت ہے وہ داخل نہ ہو گا اور دوسرے جب تک میں اسے یہ نہ کہوں گا کہ یہ جنت اصل مقصود نہیں بلکہ اصل مقصود اس میں داخل ہونے کا یہ ہے کہ تو میرے گا وہ داخل نہ ہو گا۔تو اس چھوٹی سی آیت میں اللہ تعالٰی نے عشق و محبت کے رہے بے انتها باب کھول دیے ہیں فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا میں الله تعالى۔نے ایک تو آنحضرت میں ایم کیو ایم کے زمانہ میں عظیم الشان انعامات کا وعدہ فرمایا ہے اور اسے دُہرا کر اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آخری زمانہ میں اسلام پر پھر مشکلات اور مصائب آنے والے ہیں۔مگر اے محمد ( ملال تیری قربانیاں اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ دوبارہ جب اسلام پر تنگی اور تکالیف کا زمانہ آئے گا تو انہی کے طفیل ہم دوبارہ ٹیر پیدا کر دیں گے۔آخری زمانہ کی تنگیوں کی قیمت بھی ہم نے محمد م ل ا ل ول ولیم کی قربانیوں کی صورت میں وصول کرلی ہے اور یہی قربانیاں دوبارہ اسلام کے لئے رحمت اور فضل کا دروازہ کھولنے کا ذریعہ بن جائیں گی۔یہ گویا اللہ تعالیٰ کا ایک وعدہ ہے جس کا مبادلہ بھی اللہ تعالیٰ وصول کر چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ بھی نہیں مل سکتا جس کا کوئی مبادلہ نہ ہو تو یہ کیسے ٹل سکتا ہے اور ایسے وعدہ کا ٹلنا تو گویا بیچ نسخ کرنے کے مترادف ہے۔آنحضرت ملی و یا لیلی نے فرمایا ہے کہ جو شخص کوئی ہیہ کر کے اسے واپس لے ، وہ گویا قے کر کے چاہنے والا ہے۔ملے اور وہ جو ایک سودا کر کے فسخ کرے وہ تو اور زیادہ بُرا فعل کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو اور زیادہ پختہ بنانے کے لئے فرما دیا کہ ہم ساتھ