خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 383 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 383

٣٨٣ اور یہی حال دوسرے صحابہ کا تھا۔وہ قربانیاں قربانیوں کی خاطر کرتے تھے وہ موت کو موت کیلئے قبول کرتے تھے اور ان کے سامنے صرف اللہ تعالٰی کی رضا جوئی تھی۔وہ انعامات جو ان کو بعد میں ملے وہ ان کے سامنے نہ تھے نہ ان کے مقصود تھے اس لئے ان کی قربانیاں بڑی ہیں ورنہ جو انعامات ان کو ملے جو بدلہ ان کو ملا یا اگلے جہان میں ملنے والا ہے وہ سامنے رکھ کر اگر ان قربانیوں سے دس گنا بھی زیادہ قربانیاں کی جائیں تو وہ صحابہ کی قربانیوں کے سامنے حقیر ہوں گی اس لئے کہ صحابہ کے سامنے انعامات نہ تھے بلکہ وہ قربانیاں خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کرتے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تنگیاں اور یہ تکالیف جو تم نے اُٹھائی ہیں ان کے اٹھانے میں چونکہ یہ بات نہ تھی کہ اس کے بدلہ میں تمہیں انعامات ملیں گے بلکہ اس لئے اٹھا ئیں کہ یہ میرا حکم تھا اس لئے میرے انعامات بھی غیر محدود ہوں گے۔گو مومن امید تو یہ رکھتا ہے کہ وہ جو نیک اعمال بجالاتا ہے اس کے نتیجہ میں اس پر اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہو گا مگر وہ قربانی اس لئے نہیں کرتا کہ اس کے نتیجہ میں اسے کوئی انعام ملے گا یا جنت ملے گی۔مومن اس لئے نمازیں نہیں پڑھتا کہ اس کے نتیجہ میں اسے جنت ملے گی ، اس لئے زکوۃ نہیں دیتا، اس لئے حج نہیں کرتا کہ اسے جنت حاصل ہوگی بلکہ سب نیکیاں اور سب قربانیاں اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر کرتا ہے۔، اگر خدا تعالیٰ کہہ دے کہ اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی نہیں بلکہ مرکز انسان مٹی ہو جائے گا تو کیا تم سمجھتے ہو کوئی شریف انسان کے گا کہ میں اب نماز نہیں پڑھوں گا، زکوۃ دینا ترک کر دوں گا ، حج نہیں کروں گا، یہ نیکیاں اور عبادات تو ان سابق احسانات کی وجہ سے ہیں جو اب تک اللہ تعالٰی ہم پر کر چکا ہے آئندہ کے لئے سودے کے طور پر نہیں ہیں۔جو سودا کرتا ہے وہ مومن نہیں ہو سکتا۔حضرت جنید بغدادی کے متعلق آتا ہے کہ کسی نے ان سے کہا کہ شبلی آپ کا شاگرد ہے وہ کہتا ہے کہ میں تو اللہ تعالیٰ کے سامنے جا کر یہ کہوں گا کہ بے شک تو مجھے دوزخ میں بھیج دے مجھے جنت کی پروا نہیں مجھے تو تیری رضا منظور ہے۔یہ بات سنکر حضرت جنید نے کہا کہ شیلی بچہ ہے اس لئے اس نے اس رنگ میں بات کی۔میں تو اللہ تعالی کے حضور یہ عرض کروں گا کہ اگر میرے جنت میں جانے سے خوش ہے تو جنت میں بھیج دے اور اگر میرے دوزخ میں جانے میں تیری خوشی ہے تو دوزخ میں بھیج دے۔، تو سچا مومن قربانی اس لئے نہیں کرتا کہ اسے جنت مل سکے بلکہ خدا تعالیٰ کی خوشی کے لئے کرتا ہے۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ وہ جنت اس لئے