خطبات محمود (جلد 1) — Page 371
ایک ہی ذریعہ احیاء اسلام کا تھا اس کو پیش نہ کیا۔حالانکہ خالی جہاد کی تعلیم صرف انگریزوں کو خوش کر سکتی ہے مسلمانوں کے دلوں میں یہ تعلیم مایوسی پیدا کرتی ہے۔یا اگر بعض مسلمان مایوس نہیں ہوتے تو وہ ہمارے متعلق سمجھتے ہیں کہ ہم اسلام کے دشمن ہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاد کو دعوت و تبلیغ سے وابستہ قرار دیا ہے یعنی صرف ممانعت جہاد کا آپ نے اعلان نہیں کیا بلکہ اس کے ساتھ ہی آپ نے اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ اب اسلام کی اشاعت اور اس کی ترقی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ لوگوں کو تبلیغ کی جائے اور انہیں اسلام کی طرف کھینچا جائے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اسی ممانعت جہاد والی نظم کے خاتمہ پر فرماتے ہیں۔میں سے جس کو دین و دیانت سے ہے پیار اب اس کا فرض ہے کہ وہ دل کر کے استوار لوگوں کو بتائے کہ وقت مسیح ہے اب جنگ اور جہاد حرام اور قبیح ہے ۲۲؎ یعنی یہ نہیں کہ میں تم کو صرف جنگ سے روکتا ہوں بلکہ اس کے ساتھ ہی تمہیں یہ بھی کہتا ؟ ہوں کہ اسلام کی فتح کا راستہ اور ہے اور اسی راستہ پر چلانے کے لئے خدا تعالٰی نے مجھے کو بھیجا ہے۔پس میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اب تلوار کے ذریعہ تم کامیاب نہیں ہو سکتے بلکہ اگر تم دشمنوں پر فتح حاصل کرنا چاہتے ہو ، تم اسلام کو دوسرے تمام ادیان پر غالب اور برتر کرنا چاہتے ہو تو تم میری تعلیم اور میرے لائے ہوئے براہین کو لوگوں کے سامنے پیش کرو اور پھر دیکھو کہ کس طرح اسلام دنیا پر غالب آتا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاد کی ممانعت کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں میں مایوسی پیدا نہیں کی بلکہ جہاد کے غلط راستہ پر چلنے سے روک کر تبلیغ کا راستہ ان کے سامنے کھول دیا اور اس طرح ان کے دلوں میں اسلام کی فتح اور اس کی کامیابی کے متعلق ایک غیر متزلزل یقین اور ایمان پیدا کر دیا۔آج زمانہ کے حالات نے بھی بتا دیا ہے کہ جہاد پر عمل اس زمانہ میں غلط اور ملک ہے اور یہ کہ اب اسلام کے احیاء اور اس کی ترقی و اشاعت کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ تبلیغ سے دوسرے ادیان پر فتح پانا ہے۔پس ہر وہ شخص جس کے دل میں دین کا درد ہے جو اپنے اندر سچا ایمان اور سچا اخلاص رکھتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو بتائے کہ مسیح آگیا ہے۔وہ لوگوں کو یہ پیغام پہنچائے کہ اسلام کا