خطبات محمود (جلد 1) — Page 361
فیصلہ ہوا ہے۔اس کے بعد میں تمام جماعت کو مقامی جماعت کو پہلے اور بیرونی جماعت کو خطبہ شائع ہونے کے بعد خطبہ کے توسط سے اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ ایام میں دنیا میں بعض ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں۔جنہوں نے ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے بے انتہا سامان پیدا کر دیئے ہیں۔پچھلے ایک دو مہینہ کے اندر اندر اٹلی بالکل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ہے اور اس کی حکومت جاتی رہی ہے۔جاپان پر اتحادیوں کا زور بڑھ گیا ہے اور روس میں جرمنوں کو ایسی خطرناک شکستیں ہوئی ہیں کہ اگر ان شکستوں کے پیچھے کوئی بہت بڑا جنگی دھوکا نہ ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ جہاں تک جرمنی کی جارحانہ پالیسی کا تعلق ہے جو من ختم ہو چکا ہے۔میں نے بارہا بتایا ہے کہ جہاں تک جنگ کا تعلق ہے ، ہماری ہمدردیاں اتحادیوں کے ساتھ ہیں۔ہمارے اپنے سینکڑوں نہیں ہزاروں احمدی بھائی اس جنگ میں گئے ہوئے ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے خود کہہ کہہ کر سمجھا سمجھا کر اور تبلیغ کر کر کے لڑائی کے لئے بھجوایا ہے۔کہتے ہیں " جنگ دو سر دارد " جنگ میں یا انہوں نے جیتنا ہوتا ہے یا اُنہوں نے۔یا ایک فریق نے غالب آنا ہو تا ہے یا دوسرے نے۔مگر ہماری اپنی پالیسی اور اپنی سمجھ کے مطابق اس جنگ میں اتحادیوں کا جیتنا زیادہ مفید ہے اسی بناء پر ہم نے انگریزوں کی مدد کی اور اسی وجہ سے آج ہزار ہا احمدی اتحادیوں کی طرف سے لڑ رہے ہیں۔مجھے اس پالیسی کے متعلق متواتر رویا ہوئی ہیں۔گو میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ دوسروں کے لئے محبت ہیں مگر کم سے کم میرے لئے وہ ضرور حجت ہیں اور جب رویا کے لحاظ سے وہ میری ذات کے لئے محبت ہیں تو اس کے بعد خلیفہ وقت کے فیصلہ کے لحاظ سے وہ جماعت کے لئے بھی حجت بن جاتی ہیں۔پس جو چیز میرے لئے رویا کے لحاظ سے حجت ہے وہ دو سروں کے لئے گو رؤیا کے لحاظ سے حجت نہ ہو مگر خلیفہ کا فیصلہ چونکہ اس کے مطابق ہے اس لئے خلیفہ کے فیصلہ کے لحاظ سے وہی چیز جماعت کے لئے بھی مُحبت ہے۔میں نے متواتر رویا دیکھی ہیں کہ جہاں تک دنیوی حالات کا تعلق ہے اور جہاں تک مستقبل کے ان مہم ! تاریک حالات کا تعلق ہے جن کا اندازہ قبل از وقت کوئی انسان نہیں لگا سکتا ان کی بناء اللہ تعالی کی مشیت اتحادیوں کی تائید میں ہے۔اب بھی اٹلی پر جب انگریزی حملہ ہوا تو اس سے ایک دن پہلے رویا میں میں نے دیکھا کہ میں ایک جگہ گھڑا ہوں اور وہاں پاس ہی ایک دوسرا ملک نظر آتا ہے جو بہت لمبا سا ہے۔وہاں اور