خطبات محمود (جلد 1) — Page 311
۳۱۱ میرے سپرد کیا گیا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ میرے راستہ میں بہت مشکلات حائل ہوں گی۔یہ خلافت سے بہت پہلے کی رؤیا ہے اور بعد میں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس سے مراد خلافت تھی۔میں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ میرے پاس آیا ہے اور وہ مجھے کہتا ہے کہ اس کام کی تکمیل کے راستہ میں بہت سی رکاوٹیں ہوں گی ، بہت مخالفتیں ہوں گی مگر ان سب کا ایک ہی علاج ہے اور وہ یہ کہ جب تم کوئی غیر معمولی نظارہ دیکھو اس کی کوئی پروا نہ کرو اور خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔" " خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔" کہتے ہوئے آگے بڑھتے جاؤ۔- چنانچہ میں چل پڑا ہوں میرا راستہ دو پہاڑیوں کے درمیان سے گزرتا ہے اور میں جنگلوں میں سے جا رہا ہوں۔راستہ میں اندھیرا ہو جاتا ہے، بالکل سنسان جنگل ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ بہت خطرہ اور خوف کی جگہ ہے۔میں جا رہا ہوں کہ دور سے شور سنائی دیتا ہے اور مختلف قسم کی آوازیں آنے لگتی ہیں۔کوئی مجھے گالی دے دیتا ہے اور کوئی بیہودہ سوال کر دیتا ہے لیکن میں "خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " " خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ کہتا ہوا آگے بڑھتا جاتا ہوں۔اور جب میں یہ کہتا ہوں تو وہ شور بند ہو جاتا ہے مگر تھوڑی دور آگے جاتا ہوں تو بعض عجیب قسم کے وجود نظر آنے لگتے ہیں، عجیب عجیب شکلیں دکھائی دیتی ہیں کئی کئی ہاتھوں والے انسان نظر آتے ہیں کسی کا سر بہت بڑا ہے اور کسی کا بہت چھوٹا مگر جب میں ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " کہتا ہوں تو وہ شکلیں غائب ہو جاتی ہیں مگر تھوڑی دیر بعد اور بھی بھیانک نظارے دکھائی دیتے ہیں۔کوئی ہاتھ کٹا ہوا علیحدہ نظر آتا ہے کوئی سر بغیر دھڑ کے دکھائی دیتا ہے۔اور کوئی دھڑ بغیر سر کے کوئی شکل ایسی نظر آتی ہے کہ جس کی لمبی زبان باہر نکلی ہوئی ہے ، کسی کے بال کھلے ہوئے ہیں آنکھیں حلقوں سے باہر نکل رہی ہیں اور وہ شکلیں طرح طرح سے مجھے ڈرانے کی کوشش کرتی ہیں۔مگر میں ”خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ "۔"خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ " کہتا ہوا آگے بڑھتا جاتا ہوں اور جب میں یہ الفاظ کہتا ہوں وہ غائب ہو جاتی ہیں یہاں تک کہ میں منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہوں۔اس رویا میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا ہے کہ انسان جب کوئی کام شروع کرتا ہے تو کئی چھوٹی چھوٹی چیزیں اس کی توجہ کو اپنی طرف پھراتی ہیں۔جب وہ کوئی نیکی کا کام کرنے لگتا ہے تو شیطان اپنا یہ حربہ چلاتا ہے کہ اس کی توجہ پھر جائے۔اہلہ لیکن جب انسان ان سے منہ پھیر کر اپنے کام میں لگا رہے تو خدا تعالی خود اس کی تحمیل کے سامان کر دیتا ہے۔میری خلافت کے زمانہ میں ہی دیکھ لو جماعت میں کئی فتنے پیدا