خطبات محمود (جلد 1) — Page 289
۲۸۹ (۲۸) فرموده ۲۴ نومبر ۱۹۳۸ء بمقام عید گاہ۔قادیان) آج ہم لوگ اس جگہ عید کی خاطر جمع ہوئے ہیں اور عید خوشی کا نام ہے۔لے لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری آج کی خوشی کس سبب سے ہے ؟ آیا اس لئے کہ آج کئی لوگوں کے گھر سیویاں پکی ہیں ، یا کئی لوگوں نے آج نئے کپڑے پہنے ہیں، یا اس لئے کہ آج چھٹی ہے اور ہم لوگ اپنے کاموں سے فارغ ہو گئے ہیں اور دوستوں کی ملاقات کا موقع ہمیں ملا ہے، یا ہم اس لئے خوش ہیں کہ ہمارے ارد گرد لوگ خوش نظر آتے ہیں اور ان کی خوشی نے ہمارے دلوں پر بھی اثر کیا ہے ، یا ہم اس لئے خوش ہیں کہ آج روزوں کی مصیبت سے ہمارا چھٹکارا ہو گیا ہے اور ہم جب چاہیں کھانا کھا سکتے ہیں اور جب چاہیں پانی پی سکتے ہیں یا ہم اس لئے خوش ہیں کہ پہلے تو ہم اپنے ہم مذہب بھائیوں کے ڈر سے ظاہر میں کھانا نہیں کھا سکتے تھے اور گو روزہ دار نہ تھے مگر پھر بھی ہمیں چُھپ چُھپ کر اپنی خواہشات پوری کرنی پڑتی تھیں ان سب وجوہ میں سے کونسی وجہ ہے جس کے سبب سے ہم خوش ہو سکتے ہیں۔یا جو وجہ خوشی کا معقول سبب کہلا سکتی ہے ان وجہوں کے علاوہ ایک اور وجہ بھی ہو سکتی ہے جس کے سبب سے ہم آج خوش ہیں اور وہ وجہ یہ ہے کہ ہمیں اللہ تعالٰی نے اپنے حکم کے ماننے کی توفیق بخشی اور گزشتہ مہینہ میں باوجود اس کے کہ ہمارے گھروں میں کھانے کے سامان موجود تھے ہمیں اپنی خاطر فاقہ کرنے کی توفیق دی۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں ہر مومن یہ جو آخری وجہ میں نے بیان کی ہے اسی کو عید کی خوشی کا سبب سمجھتا ہے اور حقیقتاً ایک مومن کے لئے اس سے زیادہ خوشی کا سبب کوئی نہیں ہو سکتا کہ اسے اللہ تعالی کی راہ میں خوشی کے ساتھ تکلیف اٹھانے کا موقع ملا ہو۔اور یہ موقع جس مومن کو نصیب ہو جاتا ہے وہ اسی دن سے اپنے لئے عید کا منتظر ہو جاتا ہے اور جان لیتا ہے کہ اگر میں کمزور بندہ ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے وفاداری کا معاملہ کر رہا ہوں تو اللہ تعالیٰ جس کے خزانے وسیع ہیں گے اور جو تمام صفات حسنہ سے متصف ہے۔وہ کبھی بھی مجھ سے غداری نہیں کرے گا بلکہ میری وفاداری سے بڑھ کر وفاداری کا معاملہ کرے گا اور میری محبت سے بڑھ کر