خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 277

۲۷۷ اس وقت ان کے سامنے ان کے بچے نہیں تھے یا ان کی بیوی نہیں تھی، تھے مگر وہ جانتے تھے کہ میں جب تک احمدیت میں شامل نہیں ہوا تھا ایک فرد تھا مگر احمدیت میں شامل ہونے کے بعد اب میں احمدیت کی انگلی یا اس کا ہاتھ بن گیا ہوں۔پس آدمی ہونے کے لحاظ سے میری زندگی ر قسم کی تھی مگر احمدیت کا ایک عضو ہونے کے لحاظ سے اب میری زندگی اور رنگ کی ہے۔اب میں دوسرے درجہ پر ہوں اور احمدیت پہلے درجہ پر۔اور جس طرح جسم کو بچانے کے لئے کسی عضو کے کٹ جانے کی کوئی پروا نہیں کی جاتی اسی طرح احمدیت کی عزت بچانے کے لئے اگر میری جان چلی جاتی ہے تو وہ بے حقیقت شئے ہے۔چنانچہ انہوں نے احمدیت کی عزت قائم رکھی اور خود شہید ہو گئے۔اگر خدانخواستہ وہ اس وقت ثبات قائم نہ رکھ سکتے اور احمدیت سے انکار کر دیتے تو گو ان کی جان بچ جاتی مگر لاکھوں انسانوں کی نظر میں احمدیت کی وقعت کم ہو جاتی اور وہ یہ سمجھتے کہ یہ دین کوئی بڑا دین نہیں جب اس کے ایک متبع کو حقیقی ڈر پیدا ہوا تو اس نے احمدیت سے انکار کر دیا۔مگر کیا تم سمجھ سکتے ہو کہ وہ انگلی جو اپنی زندگی کی پروا کرتی اور اپنے جسم دشمن کا دار ہونے دیتی ہے وہ بیچ سکتی ہے ؟ یہ تو ممکن ہے کہ انگلی مرجائے اور جسم بچ جائے مگر یہ بالکل ممکن نہیں کہ جسم مرجائے اور انگلی بچ جائے۔یہ تو ممکن ہے کہ چاروں یا پانچوں انگلیاں کٹ جائیں اور جسم پھر بھی زندہ رہے مگر یہ ممکن نہیں کہ جسم پر موت آجائے اور انگلیاں محفوظ رہیں۔ہزاروں آدمی ایسے ہیں جن کے دانت نکل جاتے ہیں ، جن کی آنکھیں نکل جاتی ہیں ، جن کے ہاتھ کٹ جاتے ہیں جن کے پاؤں رہ جاتے ہیں مگر پھر بھی وہ زندہ رہتے ہیں۔مگر تم یہ کبھی نہیں دیکھو گے کہ کسی کا جسم مر گیا ہو مگر اس کے ہاتھ یا پاؤں زندہ رہے اسی طرح جب کوئی قوم قوم بنے گی اس وقت یہ تو ممکن ہو گا کہ افراد مریں اور قوم زنده ای رہے مگر یہ ممکن نہیں ہو گا کہ قوم مر جائے اور افراد زندہ رہیں۔اسی لئے عقلمند لوگ اپنی قربانیاں پیش کرتے اور اپنی قوم کو مرنے سے محفوظ رکھتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہماری موت میں ہماری قوم کی حیات ہے لیکن ہماری قوم کی موت میں ہماری اپنی بھی موت ہے۔مگر یہ اس نقطہ نگاہ سے ہے اگر ہم سمجھیں کہ اگلا جہان کوئی نہیں لیکن اللہ تعالیٰ تو قرآن کریم میں مسلمانوں کے متعلق فرماتا ہے۔وَتَرْجُونَ مِنَ اللهِ مَا لَا يَرْجُونَ اللہ کہ تم دکھوں سے کیوں ڈرتے ہو یہ دکھ تم کو ویسے ہی پہنچتے ہیں۔جیسے دشمنوں کو پہنچتے ہیں مگر وہ ان دکھوں سے نہیں ڈرتے بلکہ قربانیاں کرتے چلے جاتے ہیں پھر تم کیوں تکالیف سے ڈر کر قربانیاں کرنے سے ہوں۔۔