خطبات محمود (جلد 1) — Page 275
۲۷۵ اور فیصلہ کیا گیا کہ وزیر جنگ خود اس کا اعزاز کرے اور اسے اس کے بیٹے کی موت کی خبر دے۔چنانچہ وہ بڑھیا آئی اور وزیر جنگ نے بادشاہ کی طرف سے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ تم نے بڑی - سے بڑی قربانی اپنے ملک کے لئے پیش کر دی تھی مگر افسوس کہ تمہارا لڑکا اس جنگ میں مارا گیا ہے۔لکھا ہے کہ جب وہ بڑھیا یہ خبر سن کر باہر نکلی تو اس کا جسم غم سے ایسا کانپ رہا تھا کہ اس سے کھڑا نہیں ہوا جاتا تھا اور اس کی کمر جھکی چلی جارہی تھی مگر یہ دکھانے کے لئے کہ کیا ہوا اگر میرا بیٹا مارا گیا ہے وہ مصنوعی ہسٹیریکل 3 ہنسی ہنستی اور قہقہہ مارتے ہوئے کہتی اگر میرا بیٹا مر گیا ہے تو کیا ہوا وہ قوم اور ملک کے لئے قربان ہوا ہے۔اور باوجود اس کے کہ یہ نظارہ دیکھنے والا جرمن قوم کا ایک دشمن تھا وہ لکھتا ہے کہ یہ نظارہ دیکھ کر ہمیں بے اختیار آنسو آگئے۔اب دیکھو ادھر اندرونی صدمہ اسے سخت تھا کہ اس سے کھڑا بھی نہیں ہوا جاتا تھا اور دوسری طرف وہ لوگوں کو دکھانے کے لئے زور سے اپنی لکڑی پر سہارا لیتی اور قہقہہ مارتی ہوئی کہتی کہ کیا ہوا اگر میرا بیٹا مر گیا ہے وہ ملک کی خاطر ہلاک ہوا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن سے اخروی زندگی میں انعام کا کوئی وعدہ نہیں، جنہیں اخروی زندگی پر کوئی یقین نہیں ، جن کی عمریں لوگوں کو یہ بتاتے ہوئے گذر گئیں کہ موت کے بعد کوئی حیات نہیں وہ قربانی کرتے ہیں اور قربانی کرنے کے بعد عید کا دن ان کو نصیب نہیں ہو تا مگر پھر بھی وہ قربانی سے دریغ نہیں کرتے اور ان میں سے کوئی نہیں کہتا کہ ہمیں بتاؤ ہمیں اس قربانی کا کوئی انعام بھی ملے گا یا نہیں۔وہ جانتے ہیں کہ ہماری قوم کی زندگی ہماری زندگی ہے۔ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو چکا ہے کہ ہمارے دو وجود ہیں ایک فردی اور ایک قومی۔جس طرح ایک ہاتھ دوسرا ہاتھ بچانے کے لئے کٹ جاتا ہے اور اگر اس ہاتھ کا دماغ ہوتا تو وہ کہتا کہ مجھے اپنے کالے جانے کی پروا نہیں اگر میں کٹ گیا تو کیا ہوا باقی جسم تو بچ گیا ہے اسی طرح قومی زندگی کا احساس جن لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو جاتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم فرد نہیں بلکہ قوم کے جسم کا ایک حصہ ہیں۔ہم انسان نہیں بلکہ انسان احمدیت ہے اور وہ اپنے آپ کو اس احمدیت کے اعضاء میں سے ایک عضو سمجھتے اور اپنی قربانی کا شمار کسی حساب میں نہیں سمجھتے۔جس طرح کسی کا ناک کٹ جائے یا آنکھ نکل جائے مگر وہ اپنے دشمن پر فتح حاصل کر لے تو وہ خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے کیا ہوا اگر میرا ناک کٹ گیا یا میری آنکھ نکل گئی دشمن پر تو میں غالب آ گیا۔اسی طرح وہ لوگ جو اپنے آپ کو قوم کے اعضاء سمجھتے ہیں وہ اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ ان کا کیا انجام ہوا وہ یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی قوم کو فتح