خطبات محمود (جلد 1) — Page 274
۲۷۴ گئے ، ایسے بھی تھے جو اپنے ماں باپ چھوڑ گئے چنانچہ انگلستان کا سب سے بڑا شاعر بلکہ حقیقتاً دنیا کا سب سے بڑا شاعر رڈیارڈ کپلنگ 3 کا ایک ہی بیٹا تھا جو اس جنگ میں مارا گیا۔اسی طرح انگلستان کا سب سے بڑا ناولسٹ یا کم سے کم ان ناولسٹوں میں سے ایک ناولسٹ جس کی کتابیں بالعموم پڑھی جاتی ہیں کانن ڈائل کہ تھا جس کا ایک ہی لڑکا تھا اور وہ بھی اس جنگ میں مارا گیا تھا۔کانن ڈائل پر اس کی موت کا ایسا اثر ہوا کہ وہ اس اثر کے نتیجہ میں صوفی بن گیا اور مردہ روحوں کو بلانے کا شغل اس نے اختیار کر لیا۔گویا بڑھاپے میں اس صدمے کا اس کے دماغ پر ایسا اثر ہوا کہ ایک قسم کا جنون اسے ہو گیا اور اس جنون میں جو جو آوازیں اس کے کان میں پڑ جاتیں انہیں سنکر وہ خوش ہو جاتا اور خیال کرتا کہ میرا بیٹا مجھ سے بول رہا ہے۔رڈیارڈ کپلنگ کی بھی ایسی ہی حالت ہو گئی اور اس کی زندگی میں بہت بڑا تغیر واقع ہو گیا۔چنانچہ اس کا ایک بہت قریبی رشتہ دار لارڈ بار لو جو لارڈ بالڈون 4 کا رشتہ دار تھا لکھتا ہے کہ میں نے اس کے بعد اسے ہنستے ہوئے کبھی نہیں دیکھا حالانکہ وہ اس سے پہلے ہنسوڑ تھا اور ہمیشہ بچوں کے متعلق کتابیں لکھا کرتا تھا۔مگر اس صدمے کا اثر اس پر ایسا ہوا کہ ساری عمر پھر اسے کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے لڑائی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ اگر کسی کے گھر کا ایک چراغ تھا تو وہ ایک چراغ بھی اس لڑائی کی وجہ سے بجھ گیا مگر رڈیارڈ کپلنگ سے ہی بعد میں کسی نے دریافت کیا کہ کیا اب تم لڑائی کے مخالف ہو گئے ہو تو وہ کہنے لگا نہیں اگر پھر ویسے ہی حالات پیدا ہو جائیں تو میں پھر لوگوں کو لڑائی کی ترغیب دوں گا اور انہیں قربانیوں پر آمادہ کروں گا۔غرض اس لڑائی کا نتیجہ انہوں نے نہیں دیکھا بلکہ ان کی قوم نے دیکھا لیکن چونکہ ان کی قوم کو اس کا فائدہ حاصل ہو گیا اس لئے انہوں نے سمجھا کہ ہمیں بھی وہ فائدہ حاصل ہو گیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جن کی تمام امیدیں ان کی دنیوی زندگی سے وابستہ ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اخروی زندگی پر کوئی یقین نہیں اور جو سمجھتے ہیں کہ انہیں جو کچھ ملنا تھا وہ مل گیا اور جو نہیں ملا وہ اب نہیں مل سکتا۔مگر باوجود اس کے انہوں نے کہا لڑائیاں قوم کی خاطر ہوتی ہیں اگر قوم کی فتح ہو گئی ہے تو یہی فتح حقیقی ہے۔جرمنی اور انگلستان کی لڑائی کے ابتدائی ایام میں ایک اخبار میں میں نے پڑھا۔ایک جرمن بڑھیا جس کی اتنی سال عمر تھی اس کا ایک ہی لڑکا تھا جو جنگ میں شامل ہوا اور مارا گیا۔وہ بڑھیا چونکہ اچھی حیثیت رکھتی تھی اور گورنمنٹ کا خیال تھا کہ اس کی دلجوئی کی جائے اس لئے وزیر جنگ کی طرف سے اسے چٹھی ملی کہ مجھ سے آکر ملو