خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 269

۲۶۹ سنی ایک دوسرے سے الگ ہوں ورنہ عام حالات میں ان میں فرق کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے اور بظاہر جو کچھ نظر آتا ہے وہ یہی ہوتا ہے کہ اگر شیعہ ہو تو اس کی آنکھوں میں بھی آنسو ہوتے ہیں اور اگر کوئی سنی ہو تو اس کی آنکھوں میں بھی آنسو ہوتے ہیں فرق صرف درجے کا ہوتا ہے۔یعنی شیعہ ظاہر میں پیٹتا جاتا ہے لیکن سنی کا دل پیٹتا جاتا ہے لیکن بہر حال ہوتے سارے ہی متاثر ہیں اس لئے کہ تمثیلی زبان میں کربلا کے واقعات اور ان کے نتائج سب کو دکھا دیئے جاتے ہیں۔پھر بعض جگہ یہ تمثیلی زبان اتنی بڑھا دی گئی ہے کہ حیدر آباد میں محرم کے دنوں میں کسی زمانہ میں یزیدی لشکر کو ریچھ بندر اور سور کی شکل میں دکھایا جاتا تھا اور یہ نظارہ اس قدر بھیانک ہو تا تھا کہ جن لوگوں کے جذبات واقعات کربلا سے متاثر نہیں ہوتے تھے ان پر اس کا الٹا اثر ہو تا تھا۔چنانچہ ایک یورپین اسلام کی تعلیم کا مطالعہ کرنے کے بعد اسلام کی طرف بہت کچھ مائل ہو گیا اور اس کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اسلامی ممالک کو بھی دیکھنا چاہئے۔جب وہ حیدر آباد پہنچا تو اس کی بد قسمتی سے وہ محرم کے ایام تھے اور لوگوں کا ایک حصہ وہاں بند ر سٹور اور کتے بن کر پھر رہا تھا۔وہ یہ نظارہ دیکھتے ہی اسلام سے متنفر ہو گیا اور یہ کہہ کر چلا گیا کہ کتابی اسلام اور حقیقی اسلام میں بہت بڑا فرق ہے اور ہر شخص جو اسلام کے متعلق کتابیں پڑھے اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ عمل میں بھی مسلمانوں کو دیکھے اور پھر اس مذہب کے متعلق اپنی رائے قائم کرے۔مگر یہ ان لوگوں کا حال ہے جن کے جذبات ان واقعات سے متاثر نہیں ہوتے۔وہ لوگ جن کے جذبات ان واقعات سے متاثر ہوتے ہیں وہ اس قسم کی لغویات کی بھی پروا نہیں کرتے۔علم النفس کے ماہرین نے اس امر پر بحث کی ہے کہ کیا وجہ ہے کہ انسانی طبیعت پر تمثیلات کا زیادہ اثر ہوتا ہے اور انہوں نے آخر یہ وجہ قرار دی ہے کہ تمثیلی زبان پہلے تھی اور لفظی زبان بعد میں پیدا ہوئی۔یعنی پہلے پہل جب انسان نے دنیا میں ہوش سنبھالا تو چونکہ اس کی کوئی زبان نہیں تھی اس لئے وہ اپنے خیالات ہاتھوں اور اشاروں سے ظاہر کرتا اور بجائے زبان سے کچھ کہنے کے عمل کر کے اپنے مافی الضمیر کا اظہار کیا کرتا تھا اسی لئے وہ کہتے ہیں کہ جتنی کوئی پرانی چیز ہو اتنا ہی اس کا دل پر گہرا نقش ہو تا ہے۔تو چونکہ زبان بعد کی ایجاد ہے اس لئے اس کا اتنا گہرا اثر نہیں ہوتا جتنا تمثیلی زبان کا جو پرانی ہے ہو تا ہے۔گویا پرانے زمانے میں جب تک زبان ایجاد نہیں ہوئی تھی تمام باتیں ایکٹ کر کے کی جاتی تھیں۔جیسے ماں جب اپنے بچے کو کہتی ہے تو مجھے پیارا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ ماں مجھ سے پیار 185 1