خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 249 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 249

۲۴۹ (۲۵) ( فرموده ۲۸ دسمبر ۱۹۳۵ء بمقام عید گاہ۔قادیان) اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کا اس سے زیادہ متکفل ہوتا ہے جتنا کہ ماں باپ اپنے بچوں کے متکفل ہوتے ہیں۔پس انسان کو اپنے تعلقات کی بنیاد اس محبت پر رکھنی چاہئے جو خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی نسبت ظاہر کرتا ہے۔بہت سے لوگ خدا تعالی کے ساتھ اپنا تعلق ایسا رکھتے ہیں جو صرف خوف پر مبنی ہوتا ہے لیکن ایسا تعلق کبھی بھی انسان کے اندر روحانیت پیدا نہیں کرتا۔وہی تعلق روحانیت کو پیدا کرتا ہے جس میں خوف کے ساتھ محبت بھی شامل ہو بلکہ محبت کا پہلو غالب ہو۔اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے رَحمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْ ءٍ لا یعنی میری رحمت تمام باقی صفات پر غالب ہے اور مخلوقات پر جس شدت سے میری دوسری صفات نازل ہوتی ہیں اس سے زیادہ میری رحمت نازل ہوتی ہے۔پس اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل تعلق انسان کا خدا تعالیٰ سے محبت کا ہے۔، خوف کا حصہ یا تو کمزور انسانوں کے لئے ہے یا کامل انسانوں کے لئے ان معنوں میں ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی سزا سے نہیں بلکہ اس کی ناپسندیدگی سے خوف رکھتے ہیں اور یہ خوف بھی محبت کی ایک شاخ ہے اس سے مجدا نہیں۔جو لوگ صرف سزا کے خوف سے اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرتے ہیں وہ کبھی بھی اس کے حکموں کی حکمت سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے اور ان کا عظیم دین کبھی مکمل نہیں ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہو کہ میں نے تو مار کے ڈر سے کام کرنا ہے وہ حکمت سمجھنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھتا مگر جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے سب سے زیادہ پیار کرنے والا ہے وہ چھوٹے سے چھوٹے حکم کو بھی اپنے فائدہ اور بہتری کے لئے خیال کرتا ہے اور جب اسے ظاہر نظر میں کوئی بہتری نظر نہیں آتی تو وہ اس حکم پر غور کرتا اور اس کی حقیقت کو معلوم کرنا چاہتا ہے تب اس کی روحانی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور اس کی باطنی نظر تیز ہو جاتی ہے اور وہ اسرار الہیہ کا واقف ہونا شروع ہو جاتا ہے۔میں نے اپنی ساری عمر میں جو کچھ قرآن کریم سے حاصل کیا ہے اور جو اس کے مخفی خزانے مجھے پر کھلے ہیں ان کی بنیاد اس امر پر ہے کہ میں نے