خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 226

(۲۳) فرموده ۱۷ جنوری ۱۹۳۴ء بمقام عید گاہ۔قادیان) اسلامی تعلیم اور دوسرے مذاہب کی تعلیم میں ایک مَا بِهِ الْاِمْتِيَازُ نظر آتا ہے وہ میانہ روی ہے وگرنہ سب مذاہب کی تعلیموں میں ایک حد تک اشتراک پایا جاتا ہے۔اسلام اگر نماز کا حکم دیتا ہے تو ہر مذہب میں کسی نہ کسی رنگ میں خدا کی عبادت کی جاتی ہے ، اسلام اگر روزہ کا حکم دیتا ہے تو دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جس میں روزہ کی کوئی نہ کوئی شکل نہ رکھی گئی ہو ، اسلام میں اگر حج ہے تو ہر قوم اور ہر مذہب میں کوئی نہ کوئی مقدس مقام ہے جہاں جانانہ ہی فرض سمجھا جاتا ہے ، اگر اسلام نے زکوۃ کی تعلیم دی ہے تو ہر مذہب میں صدقہ و خیرات کی تعلیم پائی جاتی ہے اور ہندو عیسائی زرتشتی سب مذاہب میں ایسی تعلیم موجود ہے۔پس اجمالی رنگ میں اگر دیکھا جائے تو اسلامی تعلیم اور دوسرے مذاہب میں کوئی فرق نہیں اس لئے وہ لوگ جنہوں نے تفصیلات اور ان کی اہمیت پر غور نہیں کیا ہو تا کہہ دیتے ہیں کہ سب مذاہب ایک ہی ہیں اور کوئی فرق ان میں نہیں۔وہ دیکھتے ہیں کہ سب نے خدا کی یاد اس کی فرمانبرداری اور نیکی و تقویٰ کا حکم دیا ہے۔سب نے نماز، روزہ، حج، زکوة کی تلقین کی ہے پھر کیوں کسی کو نا قابل عمل کہیں اور کسی کو قابل عمل کسی کو جھوٹا کہیں اور کسی کو سچا، کسی کو ناقص ٹھہرائیں اور کسی کو کامل مگر سب نے گو اجمالی تعلیم یکساں دی ہے لیکن تفصیلات میں اتنا فرق ہے جتنا زمین و آسمان میں۔اس کی مثال یوں دی جا سکتی ہے کہ جیسے کپڑا ہے وہ بھی کپڑے ہی ہیں جو یورپ کی عورتیں پہنتی ہیں جن کا نام اگر چہ کپڑا ہوتا ہے مگر جسم کا ہر حصہ اس میں سے نگا نظر آتا ہے۔جب میں ولایت گیا لہ تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں مگر قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقع نہ ملا۔واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آسکے۔وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔اوپیرا Opper a) سینما کو کہتے