خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 163

(۱۸) فرموده ۱۳ مارچ ۱۹۲۹ء بمقام باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔قادیان) انبیاء کی وحی اپنے اندر کئی معانی رکھتی ہے اور مختلف مطالب پر اس سے روشنی پڑتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے جو عید سے تعلق رکھتا ہے۔ایک تو اس الہام کے وقتی معنی تھے کہ اس دن شبہ تھا کہ آیا عید ہے یا نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کو دور فرما دیا اور بتایا کہ عید تو ہے چاہے کر دیا نہ کرو۔لیکن میرے نزدیک اس وحی کا صرف یہی مفہوم نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔چاہے کرو یا نہ کرو اور جس کام کے متعلق خود اللہ تعالیٰ فرمائے ”چاہے کرو یا نہ کرو " صرف اس کے لئے خصوصیت سے الہام کرنا کوئی وجہ نہیں رکھتا۔میرے نزدیک علاوہ اس مفہوم کے ایک اور لطیف نکتہ بھی اس میں بیان فرمایا گیا ہے اور وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کی طرف اشارہ ہے۔انبیاء کی بعثت بھی ایک عید ہوا کرتی ہے۔یعنی ان کی بعثت سے اللہ تعالٰی کے فضل پھر دنیا پر نازل ہوتے ہیں اور دنیا میں ترقیات کا بیج ان کے ذریعہ سے بویا جاتا ہے وہ ایک ایسا بیج ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ ترقی کر کے ایک اتنا بڑا درخت بن جاتا ہے۔جس کے پھلوں اور سایہ سے اہلِ دنیا مستفید ہوتے ہیں کہ لیکن اکثر لوگوں کو وہ عید نظر نہیں آیا کرتی لوگ عام طور پر اس سے منہ پھیر لیتے ہیں۔اس عید کے لئے شوق سے روزے رکھتے ہیں اور بعض دفعہ چاند نظر نہیں آتا تو دوسرے لوگوں کے کہنے پر ہی عید کر لیتے ہیں۔ایک دوست نے سنایا۔ایک شہر میں سات سال تک ایک گاؤں کے لوگ آکر قسمیں کھاتے رہے کہ ہم نے چاند دیکھ لیا ہے اور ان کی قسموں پر اعتبار کر کے وہاں عید کرلی جاتی رہی۔آخر جب یہ سوال پیدا ہوا کہ کیا وجہ ہے ہر سال اسی گاؤں کے رہنے والوں کو چاند نظر آتا ہے کیا باقی سب لوگ اندھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں دکھائی نہیں دیتا تو ان لوگوں نے اقرار کر لیا کہ ہم عید کرنے کی خوشی میں جھوٹ بولتے رہے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ اس عید کا تو نام سنکر ہی لوگ کر لیتے ہیں لیکن اس عید کی طرف جو انبیاء کی آمد سے ہوتی ہے بہت کم توجہ کرتے ہیں۔