خطبات محمود (جلد 1) — Page 15
۱۵ الْعَلَمِینَ - ۲۳ تو آج ایک خوشی اور راحت کا دن ہے۔کیوں ہے ؟ یہ ایک لمبا مضمون ہے۔ہمیں خدا نے ایک عبادت کا موقع دیا ہے۔آنحضرت ملی یا اللہ نے ہماری ہر ایک خوشی کے موقع پر عبادت مقرر فرمائی ہے۔یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں ایک عبادت کا موقع دیا۔اللہ تعالیٰ کے پیاروں کے کام بھی کیا ہی عمدہ ہوتے ہیں۔رضی حضرت عائشہ اب ۲۴ صدقہ و خیرات بہت کیا کرتی تھیں۔عبداللہ ابن زبیر ۲۵ ان کے بھتیجے نے کہیں کہہ دیا کہ ان کو روکنا چاہئے کیونکہ اس طرح ان کے وارثوں کو کیا ملے گا۔ان کو یہ خبر پہنچ گئی۔انہوں نے کہا۔میں اگر اسے ملوں تو میں نذر دوں گی۔ایک دن قریش کے ایک دو آدمیوں نے عبداللہ بن زبیر کو ساتھ لیا اور دروازے پر جا کر دستک دی اور کہا۔ہم اندر آنا چاہتے ہیں۔اب ہم کے لفظ میں عبد اللہ بن زبیر بھی شامل تھے اور ان کو پس پردہ کیا تو معلوم تھا کہ وہ بھی ساتھ ہیں) آپ نے اجازت دے دی۔جب اندر گئے تو عبد اللہ حضرت عائشہ ان سے لپٹ گئے۔تب حضرت عائشہ نے کہا کہ میں نے جو نذر مانی ہوئی تھی۔اب اسے پورا کروں۔۲۶ ، وہی بات جس سے عبد اللہ بن زبیر نے روکنا چاہا اسے کیا۔تو گویا انہوں نے اپنے بھتیجے کے ملنے کی خوشی میں ایک عبادت کی۔اور صدقہ و خیرات کیا۔یہ باتیں انہوں نے نبی کریم مالی یوری سے ہی سیکھیں۔آپ نے فرمایا۔کہ رمضان آیا روزے رکھو عبادت کرو۔جب گزرا تو خوشی کرو کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ روزے رکھے اور اس خوشی میں عبادت کرو۔یہی ایک نہیں بلکہ ہر ایک خوشی میں عبادت رکھی۔کیونکہ انسان خوشی میں اندھا ہو جاتا ہے اس لئے فرمایا خوشی میں عبادت بھی کر لیا کرو تاکہ تم اپنی غلطیوں کے ضرر سے بچ جاؤ اور تمہیں اس سے فائدہ پہنچے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے فائدہ پہنچاوے اور حقیقی اسلام کے پھیلانے کی ہمیں توفیق دے۔ہمیں تقویٰ کے لباس سے ملبوس کرے۔خدا کرے ہم وہ دن دیکھیں کہ اسلام دنیا میں بڑھے اور پھیلے۔آمین ثم آمین (الفضل ۳۰۔اگست ۱۹۱۴ء) d سنن ابی داود كتاب النكاح باب فى خطبة النكاح جلد اول صفحه ۲۸۹ ہندی المائدة : ۱۱۳ ۱۱۶