خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 122

۱۲۲ معلوم حضرت صاحب کی کیا حالت ہوگی لیکن آپ بجائے رنج کرنے کے خوش نظر آتے تھے اور فرماتے تھے خدا کی پیشگوئی پوری ہوئی۔۲۳، اور آپ نے کس خوشی میں کہا۔جا مبارک تجھے فردوس مبارک ہووے ۲۴ اور اپنے دوستوں کو تسلی کے خطوط لکھے کہ فکر نہ کریں۔۲۵، پس سچے مومن اور متبع مصیبتوں کے وقت بھی خوش ہوتے ہیں۔احد میں مسلمانوں پر مصیبت آئی۔لیکن انہیں اس بات کی خوشی ہوئی کہ خدا نے اس کی پہلے ہی خبر دے دی تھی اور وہ پوری ہو گئی۔۲۶ ، ان کو ترقیات کی خوشی نہ ہوتی تھی بلکہ خدا کی بات کے پورا ہونے کی خوشی ہوتی تھی اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ رنج اور مصیبت کے وقت بھی خوشی کا اظہار کرتے تھے۔پس عید ہمارے لئے آئے گی، ترقیات ہوں گی ، حکومتیں ملیں گی لیکن وہ ترقی اور وہ کھانے اور وہ عیش ہمارے لئے دعوت عائشہ ان کے کھانے کی طرح تلخ ہوں گے تاہم ہمیں عید کی خوشی ہوگی اور اس لئے ہوگی کہ تاریکی کے زمانے کی پیشگوئیاں پوری ہوں گی۔یہ عید ہماری ہوگی۔پس عید نبیوں کی ترقی کا زمانہ ہے اور رمضان نبیوں کے شروع کا زمانہ ہے۔تم رمضان کے مہینے میں نبیوں کے ساتھ مل کر قربانیاں کرو اور عید کے دن اس لئے خوش ہو کہ خدا کی پیشگوئی پوری ہوئی۔اس وقت اندھے بھی چلا اٹھیں گے کہ ہم نے عید کا چاند دیکھ لیا۔پس تم اس رمضان میں سے بھی گذرے جو ہر سال آتا ہے اور جس میں تم کو بھوکا اور پیاسا رہنا پڑا“ میاں بیوی کے تعلقات منقطع کرنے پڑے، ترقیات کے لئے عبادتیں اور دعائیں کرنی پڑیں۔یہ رمضان تم کو سبق دیتا ہے کہ نبی کے رمضان میں اگر تم کو بھوکا رہنا پڑے ، تکلیفیں اٹھانی پڑیں تو تم شکایت نہ کرو کیونکہ جس طرح یہ رمضان گذرتا جاتا ہے اور تم اس کے معین دن جانتے ہو اور گھبراتے نہیں ہو اسی طرح وہ نبیوں کے زمانے کا رمضان بھی گذر جاتا ہے اور عید آ جاتی ہے۔پس جس طرح تم اس رمضان کی شکایت نہیں کرتے کہ یہ رمضان ختم بھی نہیں ہوتا تو نبیوں کے رمضان کی کیوں شکایت کرتے ہو۔اور اگر تم اس رمضان کی طرح مسیح موعود علیہ السلام کے رمضان کو جان لیتے تو خوش ہوتے کہ یہ مہینہ دین کے لئے تکلیفوں کے برداشت کرنے کا ہے اور تم خوش ہوتے کہ مصیبت کے وقت تم کو خدمت دین کا موقع ملا ہے۔چاہئے کہ تم ان دنوں کی قدر کرو اور عید کے دن کے آنے سے پہلے خدا سے صلح کرد ورنہ تمہاری عید بچوں کی سی ہوگی۔حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ ہم میں سے ہر ایک کا حصہ عید