خطبات محمود (جلد 1) — Page 120
کو دجال کہا، فریبی کہا کفر کے فتوے لگائے ۲۰، اور اس نے اسلام کے لئے جو قربانیاں کیں ان کو اس کے اپنے فائدے کے لئے بتایا۔اس پر اعتراض ہی کرتے رہے اور اس کے رمضان سے حصہ نہ لیا۔یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کہلاتے تھے لیکن انہوں نے تکلیف میں محمد م کا ساتھ نہ دیا اور اس تاریکی کے موقع میں آپ کو چھوڑ کر چلے گئے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ مسیح موعود سچا نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی پیشگوئی پوری ہوئی ہے لیکن اس لئے نہیں کہ واقعہ ایسا ہی ہے بلکہ اس لئے کہتے ہیں کہ ہم کو اس کے ماننے سے تکلیف نہ اٹھانی پڑے اور یہ اسی طرح تکذیب کرتے چلے جائیں گے اور یہی کہتے رہیں گے یہاں تک کہ قیامت کا دن آجائے گا تب یہ لوگ کہیں گے اگر ہم کو پتہ ہو تاکہ دین تباہ ہونے والا ہے تو ہم اس کے ساتھ مل جاتے اور اس کی تکذیب نہ کرتے۔تو یہ لوگ ابھی اس لئے نہیں شامل ہوتے کہ ہم کو قربانی کرنی پڑے گی اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں گی لیکن عید کے دن یہ ہماری دعوتوں میں شامل ہوں گے اور حصہ مانگیں گے۔تم کو جو یہ رمضان کا زمانہ ملا ہے تم اس کی قدر کرو اور اس کا حق ادا کرو۔جو دین کے لئے ہر قسم کی قربانی کرتا ہے۔پس قربانی کرو ایثار کرو اور اپنی اصلاح کرو تا کہ حقیقی عید منا سکو۔اس وقت اگر چہ رمضان کا زمانہ نہیں رہے گا جو بہت ہی مبارک زمانہ ہے اور اس کو افسوس کے ساتھ لوگ یاد کریں گے لیکن جب عید آئے گی وہ وقت بھی ہمارے لئے خوشی کا وقت ہو گا اس لئے نہیں کہ ہمیں ہر قسم کی ظاہری ترقی حاصل ہو جائے گی بلکہ اس لئے کہ اس طرح بھی خدا کی وہ پیشگوئی پوری ہوگی جو اس نے اپنے نبی کے متبعین کے غالب ہونے کے لئے اس وقت کی تھی جب کہ وہ ہر ظاہری رنگ میں مغلوب تھے۔اسے تو خوش ہو کہ وہ پیشگوئی پوری ہوئی جو خدا نے کی تھی۔مومن کی عید یہی ہوتی ہے کہ وہ خدا کی پیشگوئی کے پورا ہونے پر خوش ہوتا ہے اور یہی فرق مومن اور کافر کی عید میں ہے۔مومن خدا کے نشانات دیکھ کر اور اس کی پیشگوئیوں کو پورا ہوتے دیکھ کر خوش ہوتا ہے لیکن کافر ظاہری خوشی کو دیکھتا ہے اور ظاہری عید مناتا ہے اور تکلیف میں نبی کا ساتھ نہیں دیتا۔نظام الدین اولیاء کے متعلق لکھا ہے۔ایک کوچہ میں سے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک خوبصورت بچہ کو گلی میں کھڑا دیکھا اور اس کو بوسہ دیا۔باقی مریدوں نے جو یہ دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے پیر کی اقتداء کرتے ہوئے بوسہ دیا لیکن وہ مرید جو بہت مقرب سمجھا جاتا تھا اور آپ کی وفات کے بعد آپ کا خلیفہ