خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 114 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 114

یعنی پہلی رات کا چاند میں نے بھی دیکھ لیا ہے۔باوجود اس کے کہ میری نظر کمزور تھی میں نے اس چاند کو دیکھ لیا جس کو تیز نظر والے بہت کم دیکھ سکتے۔اس فقرہ نے میرے اندر ایک اور مضمون کی لہر پیدا کر دی اور میں نے کہا کہ کیسا شوق اس بچے کو اس بات کا ہے کہ کل عید ہوگی۔پھر میں نے خیال کیا۔جب رمضان کا چاند نکلا تھا اس وقت نہ چھتیں چاند دیکھنے والوں سے اس قدر بھری ہوئی تھیں نہ بچے اس قدر خوش تھے۔اس وقت لوگوں میں ایسے جوش کی ہر تھی بلکہ سنجیدگی تھی، عزم تھا اور ارادہ تھا کہ رمضان میں عبادت میں ترقی کریں گے، روزے رکھیں گے اور خدا کا قرب حاصل کریں گے۔اور بیویاں یہ خیال کرتی تھیں کہ کل خاوندوں کے لئے سحری کا انتظام کرنا ہو گا اور بچے اس خیال میں تھے کہ رمضان کے گذرنے کے بعد عید آئے گی اور اس دلچسپیوں سے خالی مہینے کے بعد ایک دن ان کی دلچسپیوں کا آئے گا۔جب میں ان خیالات تک پہنچا تو میری توجہ اس مضمون کی طرف ہوئی کہ عید کیا ہے اور کیوں ہے اور کس غرض کے لئے ہے۔اس وقت مجھے القاء کے طور پر بتایا گیا کہ رمضان کا مہینہ نبیوں کا زمانہ ہے کہ اور اس کے چاند کو وہی لوگ دیکھتے ہیں جو عقل و خرد رکھتے ہیں اور مصائب اور تکلیفوں کے زمانہ میں نبی کا ساتھ دیتے ہیں۔لیکن بچے والی عقل رکھنے والے لوگ اس چاند کی پروا نہیں کرتے اور اس لئے نہیں دیکھتے کہ ہم کو روزے رکھنے پڑیں گے یعنی نبیوں کے ساتھ ہو کر مشقت اٹھانی پڑے گی۔ہاں عید جو نبی کی ترقی کا زمانہ ہوتی ہے اس کا انتظار کرتے ہیں اور اس کے چاند کو دیکھنے کے مشتاق ہوتے ہیں۔غرضیکہ رمضان نبیوں کا زمانہ ہوتا ہے اور اس کی پہلی رات کا چاند وہ لوگ جو عقلمند اور جن میں حق کے قبول کرنے کا مادہ ہوتا ہے دیکھتے ہیں۔اس بچے کے کہنے کا یہی مطلب تھا کہ میں نے بھی چاند دیکھ لیا جس کو بہت کم لوگ بوجہ اس کے نہایت باریک ہونے کے دیکھتے ہیں۔اسی طرح نبیوں کے ابتدائی ایام میں وہ جن میں عقل و خرد ہوتی ہے اور حق کے قبول کرنے کا مادہ ہوتا ہے وہی لوگ اس چاند کو دیکھتے ہیں اور اس وقت دیکھتے ہیں جب کہ مخالفت کا ایک سیلاب عظیم چل رہا ہوتا ہے اور ان کو ہر طرح سے دکھ دیا جاتا ہے، بھوکا رکھا جاتا ہے ، فاقے پر فاقے اس کے صحابہ کو دیئے جاتے ہیں ، ملازمتوں سے الگ کیا جاتا ہے ، ان کی عورتوں اور بچوں پر مظالم توڑے جاتے ہیں وہ دکھ سہتے ہیں لیکن شکایت نہیں کرتے اور صبر سے انتظار کرتے ہیں