خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 106

1۔4 (اله) فرموده ۱۸ مئی ۱۹۲۳ء بمقام باغ حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔قادیان) عید کا دن جو مسلمانوں میں خوشی کا دن شمار کیا جاتا ہے اس کے متعلق قابل غور بات یہ ہے کہ ہم اس دن کیوں خوش ہوتے ہیں۔یہی دن بعینہ اپنے تمام حالات کے ساتھ جس طرح ہم پر آیا ہے اسی طرح ہندوؤں عیسائیوں اور سکھوں پر چڑھا ہے۔مثلاً یہ نہیں کہ ہم پر یہ دن ٹھنڈا ہو ہندوؤں پر گرم ہو ، یا مثلاً ہمارے لئے سورج چڑھنے اور اُترنے میں فرق پڑ گیا ہو، دن رات چھوٹے بڑے ہو گئے ہوں، ان میں سے کوئی فرق نہیں۔جس طرح ان کے لئے ہے اس کی طرح ہمارے لئے ہے۔پس جب یہ دن سب کے لئے برابر ہے تو وجہ کیا ہے کہ ہم خوش ہیں اور وہ نہیں۔ہمارا بچہ بچہ خوش ہے ، ہماری عورتیں خوش ہیں ، ہمارے مرد خوش ہیں لیکن اس کے مقابلہ میں ہندوؤں کے مرد اور بچے اس دن کو معمولی طور طریق پر گزارتے ہیں۔یہی حال اس دن سکھوں کا ہے اور اس دن کا اثر ان لوگوں کے اعمال پر حرکات و سکنات پر کچھ بھی نہیں۔ہمارے لئے آج کا دن جانیوالی اور آنیوالی کل کی نسبت اہم ہے۔کل ہمارے بچوں اور عورتوں اور مردوں نے نئے لباس نہ پہنے تھے اور کل کے لئے بھی تیاری نہیں کریں گے مگر آج کرتے ہیں۔پھر ہم دیکھتے ہیں ہندوؤں اور عیسائیوں کی جو عیدیں ہوتی ہیں ان کا ہم پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ہندوؤں کی دیوالی ! ہوتی ہے اور ہولی کہ ہوتی ہے ان کا ہم پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔ہمارے ہاں وہی چراغ جلتے ہیں جو عام طور پر جلا کرتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں وہ غریب ہندو جس کو روزانہ جلانے کے لئے بھی تیل نہ ملتا ہو دیوالی کے دن ضرور چراغ جلاتا ہے۔غرض مسلمانوں کی عید ہندوؤں اور عیسائیوں پر موثر نہیں اور ہندوؤں کے تہوار مسلمانوں عیسائیوں کے لئے اثر انداز نہیں اور عیسائیوں کی عید مسلمانوں اور ہندوؤں کے لئے پر اثر نہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ خوش ہونے کی وجہ کیا ہے۔اگر ہم اس بات پر غور کریں تو اپنی زندگی کو اپنے تصرف کے نیچے لا سکتے ہیں۔عید کا دن اپنے ظاہری سامانوں سے عید نہیں ہے