خطبات محمود (جلد 1) — Page 99
٩٩ تھے۔آپ نے فرمایا۔پہلے ان کو پلاؤ۔میں ڈرا کہ یہ دودھ ختم نہ ہو جائے مگر ان سب نے پیا اور قسم ہے خدا کی پیالہ اسی طرح بھرا ہوا تھا۔پھر مجھے دیا۔میں نے خوب سیر ہو کر پیا۔نے فرمایا اور پیو۔میں نے پیا۔آپ نے فرمایا اور پیو۔میں نے اور پیا۔اور یہاں تک میں نے پیا کہ مجھے معلوم ہوا کہ میرے ناخنوں سے دودھ نکل جائے گا۔حملہ پھر بعض اوقات میری فاقہ سے یہ حالت ہوتی تھی کہ میں بے ہوش ہو کر گر جاتا تھا۔لوگ سمجھتے تھے کہ مجھے مرگی ہو گئی ہے اور عرب میں قاعدہ تھا کہ مرگی والے کو جوتے مارتے تھے کہ اس سے ہوش آ جائے۔لوگ یہ نہ سمجھتے تھے کہ بھوک کی وجہ سے میرا یہ حال ہوا ہے اس لئے مجھے مارتے تھے۔یا تو میری یہ حالت تھی یا اب یہ حال ہے کہ کسرئی جو آدھی دنیا کا بادشاہ تھا اس کے خاص درباری رومال میں میں تھوکتا ہوں۔۱۸ صحابہ نے جو قربانیاں کیں وہ بدلے کے لئے نہیں کی تھیں۔نیکی کا کام خود اپنے اندر ایک لذت اور راحت رکھتا ہے۔جو شخص ایک ڈوبتے ہوئے کو بچاتا ہے اس کو اتنی خوشی ہوتی ہے کہ ایک بادشاہ کو ایک ملک کے فتح کرنے پر نہیں ہو سکتی۔کسی بے کس اور بے بس کی مدد سب سے بڑا کام ہے اور سب سے بڑی خوشی ہے اور سب سے زیادہ بے کس وہ شخص ہے جو خدا سے دور ہوتا ہے۔ایک فاقہ کش شخص کی حالت ہزار درجہ بہتر ہے اُس بادشاہ سے جس کے خزانے روپیہ سے پُر ہیں اور ملکوں پر اس تعریف ہے مگر وہ اپنے رب سے دور ہے۔اگر وہ خوش ہے تو اس کی خوشی اس نادان بچے کے مانند ہے جس کی ماں مرگئی ہو اور وہ خیال کرتا ہو کہ یہ مجھ سے روٹھ گئی ہے اور وہ اس کو منانے کے لئے اس کے منہ پر ہاتھ مارتا اور کہتا ہو کہ ماں تو مجھ سے بولتی کیوں نہیں کیا تو مجھ سے روٹھ گئی ہے۔حالانکہ وہ نادان نہیں جانتا اس کی ماں کی خاموشی عارضی نہیں بلکہ وہ ہمیشہ کے لئے اس کو چھوڑ گئی ہے۔پس کوئی شخص خواہ کتنے ہی خزانے اور جائدادیں رکھتا ہو اگر وہ خدا سے دور ہے تو ایک سنسان جنگل میں ہے اور سانپوں سے کھیلتا ہے جن کے زہر کا اسے علم نہیں۔پس تم دنیا کی خوشی پر مت جاؤ۔اس کی خوشیاں عارضی ہیں۔دنیا داروں کے مال ان کے آرام اور ان کے علوم بیچ ہیں جب کہ ان کا خدا سے تعلق نہیں۔مگر تم دولتمند ہو۔تم بادشاہ ہو کیونکہ خدا نے تم سے دوستی کی ہے۔دنیا کے امیر تمہارے سامنے کچھ نہیں۔پس تم خدا داد دولت لیکر نکلو اور ان لوگوں کے پاس پہنچو جو دنیا کی نظروں میں امیر اور بادشاہ اور دولتمند ہیں مگر در حقیقت وہ محتاج اور سخت محتاج ہیں۔