خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 92

۹۲ (11) (فرموده ۲۹۔مئی ۱۹۲۲ء بمقام باغ حضرت مسیح موعود۔قادیان) میں نے پہلے بھی مختلف موقعوں پر آپ لوگوں کو اس امر کی طرف توجہ دلائی ہے کہ عید اپنے اندر سبق رکھتی ہے اور وہ انسان کسی کام کا نہیں جو عبرت پر سے گذرے اور عبرت حاصل نہ کرے اور جو شخص خوشی کی باتوں سے عبرت حاصل نہ کرے اللہ تعالیٰ اس کو رنج سے عبرت دلاتا ہے۔مومن چھوٹی سے چھوٹی باتوں سے عبرت حاصل کرتا ہے۔عید اپنے اندر کئی ایک عبرتیں رکھتی ہے اور میں ان میں سے بعض کی طرف اس وقت آپ لوگوں کو توجہ دلاتا ہوں۔اگر آپ ان سے فائدہ اٹھائیں گے تو ایسی عظیم الشان تبدیلی پیدا ہو گی اور اس قدر تغیرات ظاہر ہونگے کہ آپ کے لئے حقیقی عید آجائے گی۔میں نے بار ہا بتایا ہے کہ جب تک دل کی خوشی نہ ہو عید نہیں ہوتی۔دیکھو۔کیا جن کے گھر میں ماتم ہو وہ بھی عید منا سکتے ہیں۔وہ گھر جس کے اند ر لاش رکھی ہو اس کے لئے عید نہیں دنیا کی خوشی ان کے لئے خوشی نہیں۔وہ عورت جو اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے خاوند کی لاش دیکھ رہی ہو اگر اس کے سامنے تمام دنیا کے بادشاہ بھی مل کر خوشی منائیں اور اپنی مسرت کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھا لیں تو بھی اس کے رونے کی آواز کو نہیں دبا سکتے کیونکہ اس کو صدمہ ہے۔اسی طرح وہ بچہ جس کی بچپن کی عمر میں کوئی خبر لینے والا نہ رہے جب باپ کی لاش سامنے دیکھ رہا ہو تو کوئی دنیا کی خوشی اسے خوش نہیں کر سکتی۔پس جس کا دل زخمی ہو اس کے لئے کوئی خوشی خوشی نہیں ہوتی۔ایک صاحب تاج و تخت جس کے ارد گرد ہزاروں لوگ جمع ہوں اور جسے ہر قسم کے سامان تعیش حاصل ہوں اس پر اگر ایک خطرناک غنیم چڑھا آ رہا ہو تو یہ آنے والی مصیبت ڈرانیوالی شکل میں اس کی تمام راحت کو تکلیف سے بدل دیتی ہے۔اس خطرے کی موجودگی میں کوئی چیز اس کو خوش نہیں کر سکتی۔عید دل کی خوشی کا نام ہے۔ل۔اور جس کا دل خوش نہیں اس کے لئے کوئی عید نہیں۔اب میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ لوگ جو آج خوش ہیں اور تم میں سے ہر ایک کہتا