خطبات محمود (جلد 1) — Page 8
اور فسق و فجور میں مبتلا ہوتے ہیں۔ خدا حضرت مسیح کے حواریوں نے خواہش کی کہ ہمیں مائدہ ملے تاکہ ہمارے لئے عید ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مائدہ تو اُترے گا مگر مال و دولت پاکر انسان گمراہ ہو جاتا ہے اور فرعون بن جاتا ہے۔ اللہ کے پیاروں پر حملے کرنے لگ جاتا ہے۔ یاد رکھو کہ اگر مائدہ پا کر تم میری مرضی کے خلاف چلو گے تو میں ایسی سزا دوں گا جو کبھی کسی کو نہ ملی ہو۔ جب خدا کی نعمت ملتی ہے تو اس کے ساتھ ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔ خدا کے عذاب سے ہر وقت ڈرتے رہنا چاہئے۔ ا اندھا کر دے ، بہرہ کر دے، جذام ہو جائے، مرگی پڑ جائے، مرگی پڑ جائے پاگل بن جائے، ننگ و ناموس جاتا رہے ، عذاب الہی کو کون برداشت کر سکتا ہے۔ عیسائیوں کو دیکھو انہوں نے خدا ہی نیا بنالیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ ایسا سخت گناہ ہے کہ قریب ہے اس سے آسمان و زمین پھٹ جائیں۔ پیشگوئیوں سے ظاہر ہے کہ کوئی ایسا سخت وقت آنے والا ہے۔ ابتلاء سے بچنے کے واسطے اللہ تعالی نے عید کے دن جو خوشی کا دن ہے بجائے پانچ کے چھ نمازیں مقرر کر دی ہیں۔ اس میں اشارہ ہے کہ جب مال و دولت، آرام آر و راحت حاصل جا : ہو تو عبادت زیادہ کرو۔ ان کی خواہشات بڑھیں تو نماز بھی ایک اور بڑھادی۔ جب چھ نمازیں پڑھیں گے تو ان کی توجہ اللہ تعالی کے حضور میں اور بھی بڑھ جائے گی۔ جب مسلمانوں نے جب اس کے برخلاف کیا تو ان پر ہر طرف سے دکھ کی مار پڑی۔ ملک چھینے جا رہے ہیں، عزت و مال جاتے رہے سب سے زیادہ ذم ، زیادہ ذلیل ہو گئے ہیں۔ دیکھو مراکش مسلمانوں کی سلطنت ہے مگر جرمن جرمن اور فرانس اس پر قبضہ کرنے کے واسطے اعلانیہ آپس میں جھگڑا کر رہے ہیں۔ گویا اسلامی بادشاہ کی کوئی ہستی ہی نہیں اور اس کے ملک کو اپنا حق جانتے ہیں اور اس کی کوئی عزت ان کے دلوں میں نہیں۔ ہمارے بادشاہ بھی ذلیل ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اتلاؤں سے بچنے کا یہ علاج مقرر کیا ہے کہ پہلے سے بڑھ کر عبادت کرو، صدقہ دو حج کے لئے سفر اختیار کرو، قربانیاں دو۔ افسوس ہے کہ مسلمان خیال کرتے ہیں کہ عید ایک میلہ ہے اور دنیوی راحت کے لئے ہے۔ اصلی راحت تو اللہ تعالیٰ کی رضا سے حاصل ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے کہ ہم حقیقی راحت کو سمجھیں اور پائیں۔ بدر نمبر ۴۷۴۶ جلد ۱۰ صفحہ ۷ ۸-۱۲۔ اکتوبر ۱۹۱۱ء) الى المائدة : ١١٣ ١١٦