خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 73

ترقیات ملتی ہیں تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ دن بار بار آئیں۔تو لفظ عید میں مسلمانوں کو توجہ دلائی ہے کہ ان کو اس بات کی خواہش ہو کہ یہ دن ان کی کیلئے بار بار آئے مگر بہت لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے۔ان کی عید عید نہیں بلکہ روز ماتم ہوتی ہے۔وہ ظاہر میں اچھے کپڑے پہنتے ہیں خوش نظر آتے ہیں لیکن ان کی اندرونی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ کہہ رہے ہوتے ہیں خدا کرے پھر یہ دن نہ آئیں۔یہ عید حقیقی عید نہیں۔حقیقی عید وہی ہوتی ہے جس کے لئے زبان کے ساتھ دل سے بھی آواز نکلے کہ یہ دن بار بار آئیں اور وہ عید مومن کی عید ہوتی ہے کیونکہ وہ ایک نیکی اور خدا کی رضا حاصل کرنے کا کام کرتا ہے اور اس کی خواہش ہوتی ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ یہ دن پھر آئیں۔پس اگر کوئی عید کا مستحق ہے تو وہ صرف مومن ہے باقی جو لوگ عید کرتے ہیں وہ صرف تفاول کے طور پر کرتے ہیں جیسا کہ جب کسی کے بچہ پیدا ہوتا ہے اور وہ اس کا نام شیر بہادر رکھتا ہے حالانکہ اُس وقت وہ بچہ نہ شیر ہوتا ہے نہ بہادر۔ہاں اس بچہ کے باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ بچہ شیر بہادر ہو جائے۔تو چونکہ دنیا چاہتی ہے کہ اس کو عید ملے کیونکہ یہ ایک فطرتی تقاضا ہے اور اصلی طور پر ان کو عید میتر نہیں ہوتی اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ بناوٹی طور پر ہی عید منالیں۔اور اصل کی بجائے نقل سے دل کو تسلی دینا عام طور پر پایا جاتا ہے۔ہنود میں کم لوگ ہیں جو کھلے طور پر گوشت کھاتے ہیں مگر اکثر اس طرح کرتے ہیں کہ گوشت کی بڑیاں بنا لیتے ہیں۔اگر چہ وہ بڑیاں کہلاتی ہیں لیکن چونکہ ان میں گوشت بھی ہوتا ہے اس لئے اس طرح وہ اپنے اس طبعی تقاضا کو پورا کرتے ہیں۔اسی طرح حقیقی عید جو کہ خدا کا قرب حاصل ہونے سے ہوتی ہے جس کو یہ میسر نہیں وہ بناوٹی طور پر اس خوشی کو جو خدا کے ملنے سے ہونی چاہئے ایک دن عید منا کر حاصل کرنا چاہتا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے کچی عید اسی کی ہوتی ہے جو مومن ہوتا ہے اور جس کے دل میں ایمان نہیں ہوتا اس کی عید نہیں ہوتی نہ ایک سال میں نہ عمر میں۔ہم صحابہ کو دیکھتے ہیں ان کے قلوب ایمان سے پُر تھے وہ کیسی خوشی محسوس کرتے تھے اور خوشی اور عید اس کی ہے جس کا دل خوشی میں ہو۔وہ لوگ وہ تھے جو موت کے منہ میں عید کو دیکھتے تھے کیونکہ وہ مومن نہیں جو اپنے مولا کی ملاقات سے ڈرے۔شام میں جب عیسائیوں سے جنگ ہو رہی تھی عیسائیوں کی طرف سے ایک شخص نکلا اور اس نے مبارز طلب کیا۔مسلمانوں کی طرف سے یکے بعد دیگرے کئی شخص نکلے اور شہید ہو گئے۔اس سے عیسائیوں کا