خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 72

۷۲ (9) (فرموده ۱۸۔جون ۱۹۲۰ء بمقام باغ حضرت مسیح موعود۔قادیان) آج کا دن اسلامی اصطلاح میں عید کا دن کہلاتا ہے۔یہ دن سال میں دو دفعہ دو تقریبوں مسلمانوں کے لئے شریعت کے احکام کے مطابق آتا ہے۔اس میں شبہ نہیں فطرت کا تقاضا ہے کہ سال میں ایک آدھ ایسا موقع ہونا چاہئے کہ ایک ہی خیال کے لوگ ایک جگہ جمع ہو کر خوشی کا اظہار کریں اور ملیں جلیں۔یہ نظارہ تمام دنیا میں نظر آتا ہے کسی ملک میں جائیں ، کسی مذہب کے لوگوں میں جائیں عیدیں نظر آتی ہیں۔ہندوؤں میں اس کا رواج ہے۔اے یہود میں یہ پائی جاتی ہیں۔کہ عیسائیوں میں عید منائی جاتی ہے۔۳۔زرتشتیوں میں بطور تہوار ہے۔ک حتی که اگر ان متمدن قوموں کو چھوڑ کر وحشیوں کو دیکھیں تو ان میں بھی پائی جاتی ہیں۔افریقہ کے ننگے پھرنے والے۔۔نجی کے انسان خور باشندے سال میں تہوار مناتے ہیں۔3 پس تمام سال میں ایک آدھ موقع ہر ایک قوم میں ایسا پایا جاتا ہے جس میں خوشی منائی جاتی ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی فطرت کا تقاضا ہے کہ خوشی منائے اور عام آرام کا کوئی دن تجویز کرے۔متمدن دنیا کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ پرانے تہواروں کی قدر بوجہ مذہب سے دور ہونے کے نہیں کرتی لیکن تماشوں وغیرہ کے طرح طرح کے جلسے ان اقوام نے بھی نکالے ہیں۔جس سے پتہ لگتا ہے کہ ان کے دل میں بھی وہی خواہش ہے جو دوسروں میں پائی جاتی ہے۔لیکن اسلام نے عید کا تقرر صرف اسی خواہش کے پورا کرنے کے لئے نہیں کیا بلکہ اس میں اور بھی حکمتیں ہیں۔عید کے لفظ کے ہی جو معنی ہیں وہ بھی اپنے اندر حکمت رکھتے ہیں۔عید کہتے ہیں بار بار کوٹ کر آنے کو۔پس اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان اس دن اور تقریب کے لئے گویا خواہش کرتا ہے کہ یہ مجھ پر بار بار آئے۔کہ اور یہ قدرتی بات ہے کہ انسان کسی رنج اور تکلیف کی گھڑی کے متعلق نہیں چاہتا کہ بار بار آئے۔کسی کے گھر میں بیماری آجائے یا کوئی موت ہو جائے تو وہ خواہش نہیں کرے گا کہ یہ دن بار بار آئیں لیکن بچہ پیدا ہو، شادی ہو تو وہ بھی اور دو سرے بھی کہتے ہیں کہ یہ دن پھر بھی آئیں۔کسی شخص کو عزت و رتبہ ملتا ہے اور