خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 53

۵۳ اسے وہ سواری نہ ملے۔آخر دوپہر تک کی تلاش کے بعد تھک کر ایک درخت کے نیچے لیٹ جائے اور اپنی سواری سے ناامید ہو کر سو جائے مگر اچانک اس کی آنکھ کھلنے پر اپنے پاس ہی اپنی ناقہ کو کھڑا دیکھے تو اس کے ملنے پر اسے کس قدر خوشی ہو گی۔خدا تعالی کو بھی اپنے بندے کے واپس آنے اور اپنے مولا کی طرف رجوع کرنے پر ایسی ہی خوشی ہوتی ہے۔کہ ان دونوں مثالوں میں فرق ہے۔حضرت مسیح جب دنیا میں مبعوث ہو کر آئے اس وقت بنی اسرائیل کے سوا باقی اکثر اقوام میں صلاحیت و تقوی، نیکی اور دینداری موجود تھی اور روحانی پانی ان کو سیراب کرتا تھا۔جیسا کہ حضرت مسیح کی مثال سے مستنبط ہوتا ہے کہ باپ کے بیٹے قابل ، لائق ہو نہار اور فرمانبردار موجود تھے صرف ایک گمراہ تھا جس کا ذکر کر کے حضرت مسیح نے بنی اسرائیل کو بتایا ہے کہ بنی اسرائیل کی مثال اس نالائق اور نادان بیٹے کی سی ہے اور کہ آپ اس قوم کی اصلاح کو مبعوث ہوئے ہیں۔بر عکس اس کے ہمارے رسول کریم میں او لیول کے زمانہ بعثت میں تمام دنیا میں گمراہی اور جہالت پھیلی ہوئی تھی اور کوئی ملک اور کوئی قوم بلا تخصیص ملکی و قومی گمراہی اور گناہ کے اتھاہ گڑھے سے باہر نہ تھی۔نہ کوئی ملک اور نہ کوئی قوم اس وقت دنیا کی آبادی میں ایسی موجود تھی جو روحانی پانی سے سیراب ہوتی ہو۔اور انسانوں میں سے کوئی جماعت بھی خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ نہ تھی۔گویا سب کے سب بندے خدا تعالیٰ کے راستہ سے کھوئے گئے تھے۔اس وقت آپ مبعوث ہوئے اور کھوئے ہوئے بندوں کو پھر خدا تعالی کے پاس لائے۔پس حضرت مسیح نے ایک ایسے شخص کی مثال دی جس کی اکثر اولاد نیک تھی اور ایک خراب تھی تا اپنے احاطہ تبلیغ کی طرف اشارہ کرے۔اور رسول کریم مینی لیون نے ایک ایسے شخص کی مثال دی جس کا سب کچھ کھویا گیا تھا تاکہ ان کے احاطہ تبلیغ کی طرف اشارہ ہو۔اور یہ دونوں مثالیں ان دونوں نبیوں کے مدارج کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔پس عید ہم کو اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ اگر حقیقی خوشی چاہتے ہو تو ضائع شدہ مال و منال کی تلاش کرو۔اس کے حاصل کرنے کی کوشش کرو۔مسلمانوں کے لئے تو عید ایک عبرت کا مقام ہے۔وہ شخص کیا خوشی کر سکتا ہے اور کیونکر اس کا دل خوش ہو سکتا ہے جس کو ذلت و ادبار نے گھیرا ہو، جو مصائب و مشکلات میں پھنسا ہو، جو اپنے موروثی ملک سے بدر کیا جا چکا ہو، جو شدائد کی وجہ سے اپنی ماں ، باپ، بہنوں سے الگ ہو رہا ہو ، جو بجائے دوستوں کے