خطبات محمود (جلد 1) — Page 52
کیا خوشی کرے گا۔ اندازہ کرلیں۔ ۵۲ ایک شخص جس کے پاس ہزاروں روپے ہیں وہ اگر ایک کھویا ہوا روپیہ پاتا ہے تو اس کو بھی ایک خوشی ہوتی ہے۔ مگر اس شخص کی خوشی کا اندازہ کرو جس کے پاس چند روپے تھے اور وہ گر گئے۔ بہت سرزنی اور بہت سرگردانی و مایوسی کے بعد اچانک اسے مل گئے۔ خیال کرتے ہو کہ اس کو کس قدر خوشی ہوگی۔ ایک شخص جو کسی لیے جنگل میں سفر کر رہا ہو جہاں نہ کھانے کو کچھ ملتا ہو اور نہ پینے کو میسر آتا ہو ایسے ہولناک جنگل میں اس کے پاس جو کچھ تھوڑا ساکھانا اور پانی ہو وہ کسی طرح اس ہوا سے گم ہو جائے یا کھویا جائے اور جب وہ بالکل مایوس ہو جائے تو پھر اسے اچانک وہ کھانا اور پانی مل جاوے تو اسے کس قدر خوشی ہوگی۔ حضرت مسیح نے تو بہت سے بیٹوں کی مثال دی ایک گم ہو گیا مگر باقی موجود تھے کیونکہ حضرت مسیح تمام دنیا کے لئے مبعوث نہ ہوئے تھے بلکہ آپ کی بعثت صرف بنی اسرائیل کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے لئے تھی۔ ھو ان کی مثال بتاتی ہے کہ اگر ان کی اپنی قوم حق و راستی سے دور ہو کر راہ راست سے گم گشتہ تھی تو بعض اور قومیں دنیا میں اس وقت ایسی بھی موجود تھیں جن میں نیکی و تقوی اور خدا پرستی موجود تھی۔ ان کی مثال بتاتی ہے کہ اس باپ کے اکثر بیٹے لائق اور ہو نہار تھے صرف ایک بیٹا نالائق اور عیاش تھا جو ان کی اپنی قوم کی طرف اشارہ ہے۔ حضرت مسیح کے زمانہ میں دنیا میں نیک اور خدا پرست لوگ کثرت سے موجود تھے اس لئے ان کی مثال میں ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ کا نقشہ نہیں پایا جاتا بلکہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ کا رنگ نظر آتا ہے۔ مگر بر خلاف ان کے ہمارے رسول کریم میں چونکہ تمام دنیا کے واسطے مبعوث ہوئے تھے اور آپ کی تعلیم کسی خاص ملک یا قوم کے لئے نہ تھی بلکہ تمام دنیا کے واسطے بلا تخصیص زمانه و مکان تھی اور آپ کی بعثت کے وقت ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ کا پورا پورا نقشہ موجود تھا۔ لہذا آپ نے جو مثال دی وہ بھی اس مضمون کی شاہد ناطق ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایک شخص اونٹنی پر سوار ایک بہت بڑے وسیع جنگل میں جا رہا ہو اور وہ جانتا ہو کہ اس سواری کے بغیر اس جنگل سے گزرنے کی اور کوئی سبیل نہیں اور نہ کوئی اور چارہ ہے۔ اتفاقاً سے کم ہو جائے اور وہ اس کی تلاش میں ! ن میں ادھر ادھر بے تابانہ پھرتا رہے لیکن وه اسواری اس سے گم ہو