خطبات محمود (جلد 1) — Page 499
۴۹۹ (۴۷) فرموده ۱۰ اپریل ۱۹۵۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ) جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے آج عید الفطر ہے۔عید کے معنی عرف عام میں خوشیوں کے ہو گئے ہیں لیکن عربی زبان میں اس کے معنی لوٹنے والی چیز کے ہیں اور چونکہ خوشی ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق انسان چاہتا ہے کہ وہ بار بار آئے۔اس لئے اس لفظ کے ذریعہ فطرتِ انسانی کی ترجمانی کر دی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ انسان بار بار اسی دن کو دیکھنے کی خواہش رکھتا ہے۔عید کا لفظ در حقیقت "عود" سے نکلا ہے اور عربی زبان کا محاورہ ہے کہ "العود اَحمَدٌ" جو چیز دوسری دفعہ آتی ہے وہ زیادہ اچھی ہوتی ہے۔پنجابی میں بھی کہا جاتا ہے کہ ا یہ دن جسم حجم آن " یعنی یہ دن بار بار آئیں اور جس چیز کی انسان کو بار بار خواہش ہوتی ہے وہ خوشی کی چیز ہی ہوتی ہے۔موت کے متعلق تو کوئی نہیں چاہتا کہ وہ آئے۔بے شک انسان کی پیدائش کے بعد اس پر ایک موت آتی ہے لیکن زندگی اللہ تعالی نے دائی رکھی ہے۔چنانچہ موت کے بعد جو زندگی شروع ہوتی ہے اس زمانہ کا کوئی اندازہ ہی نہیں لگایا جا سکتا۔تمام حساب فیل ہو جاتے ہیں اور زندگی ان سے بھی آگے نکل جاتی ہے اور وہ خدا کی ابدیت میں جاکر شامل ہو جاتی ہے گویا حقیقی طور پر انسان خدا نما مرنے کے بعد ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی جو یہ دو صفات ہیں کہ اس کو کسی نے پیدا نہیں کیا اور اس پر کبھی موت نہیں آئے گی ان میں سے پہلی صفت تو انسان میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی کیونکہ انسان اپنے ماں باپ سے پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کی اولاد پیدا ہوتی ہے جو اس کی قائم مقام بنتی ہے۔لیکن دوسری صفت اس میں اس رنگ میں پیدا ہو جاتی ہے کہ جسمانی موت کے بعد اللہ تعالٰی اسے اگلے جہان میں ہمیشہ کی زندگی عطا کر دیتا ہے۔پس مومن کی حقیقی عید در حقیقت اس کے مرنے کے بعد ہوتی ہے اسی لئے ایک عرب شاعر نے کہا ہے کہ اَنْتَ الَّذِي وَلَدَتْكَ أُمُّكَ بَاكِيًا وَالنَّاسُ حَوْلَكَ يَضْحَكُونَ سُرُورًا