خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 447

۴۴ ہوئے طوفانوں کو قابو میں نہیں لا سکتے۔جو جوش خود بخود نکلتا ہے وہ ایسا طوفان ہے جو بند نہیں کیا جا سکتا وہ ایسی آگ ہے جس کو کوئی شخص دبا نہیں سکتا وہ ایسی بارش ہے جس کو تھاما نہیں جا سکتا اور یہی وہ تحفہ ہے جو انسان خدا تعالٰی کو دے سکتا ہے۔اس کے سوا جو کچھ ہے وہ تو ایک سودے کی چیز ہے اور کیا ہی بے شرمی ہے کہ ہم اس کا نام تحفہ رکھیں۔پھر سودے میں بھی ہم پوری قیمت ادا نہیں کرتے اس میں بھی خدا تعالیٰ کا پلہ بھاری ہوتا ہے۔انسان کہتا تو ہے کہ میں نے قیمت ادا کر دی ہے لیکن دیتا بہت قلیل رقم ہے لیکن اللہ تعالیٰ زبان نہیں کھولتا وہ اسے یاد نہیں کراتا۔جس طرح لوگ سلائی کی مشینیں قسطوں پر لے لیتے ہیں اسی طرح خد اتعالیٰ نے بھی اپنے بندوں کو اپنی جنت قسطوں پر دے رکھی ہے۔لیکن انسانوں میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو پوری اقساط ادا کر کے مرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کبھی بھی یہ نہیں کہتا کہ چونکہ نے پوری قسطیں ادا نہیں کی تھیں اس لئے میں تمہیں جنت کیسے دوں۔اس کا یہ احسان ہے کہ وہ بغیر قسط ادا کئے اپنے بندوں کو جنت میں داخل کر دیتا ہے اور انسان کی یہ بے شرمی ہے کہ وہ کے کہ یہ میرا تحفہ ہے۔تحفہ کیا اس نے تو پوری قیمت بھی ادا نہیں کی۔تحفہ وہ عشق اور آگ ہے جو اللہ تعالیٰ کی یاد میں انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور جو اللہ تعالیٰ کو وہ بطور تحفہ پیش کرتا ہے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اسے خدا تعالیٰ کی محبت کا حقدار سمجھا جائے۔دنیا میں ہر خوشی کے موقع پر غمگین آدمی کے دل میں ایک ٹیس اٹھتی ہے۔مثلاً اگر کوئی شادی ہو رہی ہو لوگ اکٹھے ہو کر ایک دوسرے کو گلے مل رہے ہوں تو یہ نظارہ دیکھ کر ایک عورت جس کا بیٹا یا بھائی گم ہو گیا ہو رو پڑتی ہے اور اسے اپنا گم شدہ بھائی یا بیٹا یاد آجاتا ہے۔وہ خیال کرتی ہے کہ کاش میرا بھی بھائی یا بیٹا موجود ہوتا تو میں بھی اس سے گلے ملتی۔یہی وجہ ہے کہ ہماری شریعت میں ہر خوشی کے موقع پر خدا تعالیٰ نے نماز مقرر کر دی ہے۔جمعہ کا دن چھٹی کا ہوتا ہے اس دن اجتماعی نماز رکھ دی۔جمعہ کی نماز میں اگر چہ دو رکعت فرض ہی ہوتے ہیں۔مگر اس کی تیاری میں زیادہ وقت صرف ہوتا ہے اور نماز ظہر کی نسبت جمعہ کی نماز کے لئے قربانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔پھر عید میں آتی ہیں ان میں بھی خدا تعالیٰ نے نماز مقرر کر دی جس میں اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے اگر تمہارے دل میں خدا تعالی کی سچی محبت اور عشق ہے تو جب ایک دوست دوسرے دوست سے ملے گا اس سے مصافحہ یا معانقہ کرے گا تو اس کے اندر ایک ٹیس بھی اٹھے گی کہ میں زید اور بکر اور خالد کو مل رہا ہوں مگر افسوس کہ میں اپنے اصل