خطبات محمود (جلد 1) — Page 446
۲۳۶ جنگ بدر میں جب کافر رؤسا کافی تعداد میں مارے گئے تو مکہ میں کوئی ایسا خاندان نہ رہا کہ جس کا کوئی نہ کوئی لیڈر یا رئیں نہ مارا گیا ہو۔ مکہ کے لوگ ڈرے کہ اگر یہ خبر عرب میں پھیل گئی تو ان کا وقار قائم نہیں رہے گا۔ انہوں نے واپس جاتے ہی یہ فیصلہ کیا کہ کوئی شخص اپنے مرنے والے رشتہ داروں پر ماتم نہ کرے اور نہ بین ڈالے تاکہ جب لوگ باہر سے آئیں تو وہ یہ محسوس نہ کر سکیں کہ انہیں کوئی صدمہ پہنچا ہے لیکن دلوں میں تو آگ لگی ہوئی تھی۔ کسی کا ایک ہی بیٹا تھا اور وہ جنگ بدر میں مارا گیا، کسی کے دو ہی بیٹے تھے اور وہ مارے گئے اور پھر ان کی موت پر آنسو بہانے کا بھی حکم نہیں تھا بلکہ ماتم کرنے والے کے لئے ۱۰۰ اونٹ کی سزا مقرر تھی۔ ایک اونٹ کی قیمت اس زمانہ کے لحاظ سے اگر تمیں روپے بھی فرض کر لی جائے تو ایک سو اونٹ کی قیمت تین ہزار روپے ہو جاتی ہے جو اس وقت کے لحاظ سے ایک بڑی رقم تھی۔ سب لوگ اپنا جوش دبائے بیٹھے تھے۔ ایک رئیس جس کے دو بیٹے مارے گئے تھے وہ سارا دن اندر بیٹھا روتا رہتا تھا لیکن عرب میں چونکہ ٹین ڈالنے کا رواج تھا اس لئے اس کی آگ بجھتی نہیں تھی۔ وہ سمجھتا تھا کہ میں اکیلا رو رہا ہوں اور دوسرے لوگوں میں سے کوئی شخص بھی میرا ساتھ نہیں دیتا۔ کیا میرے بچے اتنے ہی ذلیل تھے کہ آج ان پر میرے سوا اور کوئی نہیں روتا۔ روتے روتے اس کی بینائی بھی جاتی رہی۔ ایک دن کسی شخص کا اونٹ مر گیا وہ غریب آدمی تھا اور وہی اونٹ اس کی جائیداد تھی۔ اس نے ہو رج سر پر رکھا اور مکہ کی گلیوں میں سے گزرتا ہوا یہ شعر پڑھتا چلا جاتا تھا کہ ہائے میرا اونٹ مر گیا۔ میرا اونٹ کتنا ہی اچھا تھا۔ وہ یہ شعر پڑھتا ہوا رئیس کے دروازے کے آگے سے بھی گزرا۔ اس رئیس نے جب یہ آواز سنی تو اس سے برداشت نہ ہو سکا اس نے دروزاہ کھول دیا اور چیخ مار کر کہنے لگا کہ اس شخص کو اپنے اونٹ پر رونے کی اجازت ہے لیکن مجھے ان بیٹوں پر رونے کی اجازت نہیں جو مکہ کی عزت تھے۔ اس کا یہ کہنا تھا کہ تمام عورتیں باہر نکل آئیں اور مکہ میں ایک ماتم برپا ہو گیا۔ تاوان وہیں کا وہیں رہ گیا اور انہوں نے اپنی قوم کے فیصلہ کی کوئی پروانہ کی۔ غرض جو چیز آپ ہی آپ نکل آتی ہے اس کو روکا نہیں جا سکتا لیکن جو نکالی جاتی ہے وہ روکی جاسکتی ہے۔ تم ایک انجن کی آگ کو اونچا نیچا کر سکتے ہو لیکن ایک آتش فشاں پہاڑ کی آگ کو دبانا تمہارے بس کی بات نہیں۔ تم چھڑکاؤ کرتے وقت مشک کے پانی کو اونچا نیچا کر سکتے ہو لیکن بادلوں سے گرنے والے پانی کو تم تھام نہیں سکتے۔ تم پنکھے کی ہوا کو اونچا نیچا کر سکتے ہو مگر