خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 441

اسم سوم تو شاید بجلی گرنے سے ان میں سے ایک یا دو مرتے اب تینوں ہی گویا مر گئے کیونکہ وہ اس غار سے نکل نہیں سکتے تھے۔کسی گذرنے والے کا اس طرف ذہن بھی نہیں جا سکتا تھا کہ یہ لوگ غار کے اندر پہلے گئے ہیں اور پھر بعد میں غار کے منہ پر آگیا ہے تاکہ وہ ان کے بچاؤ کی کوئی تدبیر اختیار کر سکتا۔وہ تینوں بہت گھبرائے۔آخر ان میں سے ایک کا ذہن اس طرف گیا کہ آؤ ہم دعا کریں اور ہم میں ہر ایک اپنی کسی نیکی کو جو اس کے ذہن میں سب سے بڑی نیکی ہو اس کا واسطہ دے کر خدا تعالیٰ سے الحاح کرے کہ اے خدا! اگر میں نے وہ نیکی محض تیری رضا کی خاطر کی ہے تو مجھے معاف کر دے اور مجھ پر رحم کرتے ہوئے میرے نجات کی کوئی صورت پیدا کر دے۔ان تینوں میں سے ہر ایک نے ایک ایک نیکی مچنی اور خدا تعالیٰ کے حضور دعا کی۔ان میں سے ایک نے کہا اے خدا! تو جانتا ہے کہ میں غریب ہوں اور چند بکریاں میرے پاس ہیں میں انہیں جنگل میں چرانے لے جاتا ہوں اور شام کو گھر واپس جا کر ان کا دودھ دوہتا ہوں اور وہ دودھ خود بھی پیتا ہوں اور اپنے بیوں بچوں کو بھی پلاتا ہوں۔انہی بھیڑوں کی اون سے ہم کپڑا بن لیتے ہیں ان کے علاوہ نہ میری کوئی جائیداد ہے اور نہ میرے پاس کوئی دولت ہے۔پھر اے خدا! تو نے اس غریب کے ماں باپ کو بھی زندہ رکھا ہے مجھ سے جہاں تک ہو سکا میں نے تیرے اس حکم کو مد نظر رکھا ہے کہ ماں باپ کو اپنے بیوی بچوں پر مقدم رکھو۔میں اس درجہ کے مطابق ہی ان کی خدمت کرتا رہا ہوں۔اے خدا! تجھے معلوم ہے کہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میں جنگل میں بکریاں چرانے گیا تو شام کو واپس آنے میں دیر ہو گئی میرے بڑھے ماں باپ نیند کی برداشت نہ کر سکے اور وہ سو گئے۔جب میں گھر پہنچا تو میری بیوی اور میرے بچے منتظر بیٹھے تھے انہوں نے کچھ نہیں کھایا تھا۔میری بیوی نے مجھے کہا بچے بھوکے ہیں دودھ دوہ دو تا انہیں پلاؤں۔میں نے کہا پہلا حق ماں باپ کا ہے پہلے میں انہیں دودھ پلاؤں گا اور پھر تمہاری باری آئے گی۔اے میرے رب ! میں نے دودھ کا پیالہ بھرا اور اپنے ماں باپ کے بستر کے پاس گیا تا انہیں بیدار کر کے دودھ پلاؤں۔پھر مجھے خیال آیا کہ اگر انہیں جگایا تو انہیں تکلیف ہو گی اس کی لئے یہ آپ ہی جائیں گے اور انہیں دودھ پلاؤں گا۔اے میرے رب! میں ان کے بستر کے پاس کھڑا رہا اور ساری رات گذر گئی میرے بچے بلبلا بلبلا کر سو گئے اور میری بیوی بڑ بڑاتی بڑبڑاتی سو گئی کہ کتنا سنگدل انسان ہے کہ بچے بھوک کی وجہ سے بلبلا رہے ہیں اور وہ اس طرف کوئی توجہ ہی نہیں دیتا۔میرے ماں باپ جب صبح اٹھے تو میں نے انہیں دودھ پلایا اور پھر اپنے