خطبات محمود (جلد 1) — Page 439
٣٩م (۴۰) (فرمودہ ۱۷۔جولائی ۱۹۵۰ء بمقام یا رک ہاؤس۔کوئٹہ ) دنیا میں کئی قسم کے انسان ہوتے ہیں اور مختلف قسم کی طبائع پائی جاتی ہیں۔کوئی ایسے ہوتے ہیں جن کے دل اتنے سخت ہو چکے ہوتے ہیں کہ غم اور خوشی ، نیکی اور بدی اور ترقی اور تنزل کا ان کے دلوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا ان کے لئے عید اور محرم یکساں گذرتے ہیں۔اگر وہ شیعہ ہیں تو وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ یہ ایام محرم کے ہیں اور اگر سُنی ہیں تو وہ یہ محسوس نہیں کرتے کہ یہ ایام عید کے ہیں۔رسماً یا رواجا اگر کوئی تبدیلی ان کے اندر پیدا ہو جائے تو وہ ان کے بیوی بچوں کی طرف سے ہوتی ہے۔مثلاً اسے نئے کپڑے پہنا دیئے یا اچھے کھانے کھلا دیئے ور نہ ایسا شخص اپنی ذات میں ہی محو رہتا ہے اور اپنے ارد گرد دیکھنے کا عادی نہیں ہوتا۔اور کوئی اتنے حساس ہوتے ہیں کہ سال کا سال ان کے لئے محرم کا دن ہوتا ہے یا عید کا دن ہوتا ہے۔مرنے والے مر رہے ہوتے ہیں اور وہ ہنس رہے ہوتے ہیں۔ہننے والے ہنس رہے ہوتے ہیں اور وہ رو رہے ہوتے ہیں۔مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے چھوٹے تھے ہمارے ایک مزارع کی بیوی حضرت خلیفہ المسیح الاول کے پاس علاج کے لئے آیا کرتی تھی۔میں ان دنوں حضرت خلیفہ المسیح الاول سے پڑھا کرتا تھا۔وہ عورت بلاوجہ بنتی چلی جاتی تھی اور بلا وجہ روتی چلی جاتی تھی۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول فرمانے لگے۔آؤ میاں تمہیں اس عورت کی بیماری بتا ئیں ہسٹیریا کا مرض ہے۔قریب کے عرصہ میں جب طاعون پڑی تھی اس عورت کے دو تین رشتہ دار مرگئے تھے۔آپ اسے مخاطب کر کے فرمانے لگے بی بی اس طاعون میں کیا تیرا باپ مرا تھا اس پر وہ قصہ مار کر کہنے لگی۔جی میرا باپ طاعون سے مرگیا تھا دوسرا شاید بھائی یا بیٹا تھا مجھے ٹھیک یاد نہیں رہا اس کے متعلق جب سوال کیا گیا تو اس عورت نے پھر قہقہہ مار کر کہا میرا بھائی یا بیٹا بھی طاعون میں مر گیا ہے۔تیسرے کے متعلق جب پوچھا تب بھی اس نے قہقہہ مار کر جواب دیا جی وہ بھی مر گیا ہے۔گویا اس کے سامنے کتنے ہی غم کی بات کرو دو سرے شخص کو اس کے صدمہ پر رونا آجا تا مگر وہ ہنس دیتی۔پھر بعض دفعہ انسان ہر بات میں روتا ہے کہیں وہ مہمان