خطبات محمود (جلد 1) — Page 400
جب میرا ایک غریب بندہ بھوکا تھا تم نے اسے کھانا کھلایا ، جب میرا ایک غریب بندہ پیاسا تھا تم نے اسے پانی پلایا تم نے اسے نہیں پلایا بلکہ مجھے ہی پلایا ، جب میرا ایک غریب بندہ نگا تھا تم نے اسے کپڑا پہنایا تم نے اسے نہیں پہنایا بلکہ مجھے ہی پہنایا جب ایک غریب بندہ بیمار تھا تم نے اس کی عیادت کی تم نے اس کی عیادت نہیں کی بلکہ میری عیادت کی۔هل اسی طرح قیامت کے دن جب امت کے لوگ رسول کریم میں لے کے پاس جاویں گے تو وہ لوگ جنہوں نے اسلام کی خاطر قربانیاں کی ہونگی اور مسلمانوں کو سچا مسلمان اور غیر مسلموں کو مسلمان بنایا ہو گا آپ ان و کو فرمائیں گے تمہاری عید مبارک کا شکریہ میں بھی تمہاری عیدوں میں شریک ہوں۔اللہ تعالیٰ تمہاری عیدوں میں برکت دے میں تم سے خوش ہوں۔مگر وہ لوگ جنہوں نے اپنی خوشی کو مقدم رکھا اپنے نفس کی اصلاح نہ کی اور اسلام کے احکام کو جاری کرنے کی کوشش نہ کی ان سے رسول کریم می فرمائیں گے تم نے بہت سی عیدیں کیں لیکن تم نے اپنی عیدوں میں مجھے شامل نہ کیا اور نہ تمہارے دل میں مجھے اپنی عیدوں میں شریک کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔تمہارے دل میں یہ خواہش تو پیدا ہوئی کہ تمہاری عیدوں اور تمہاری خوشیوں میں تمہارے ماں باپ، تمہارے بہن بھائی، تمہارے بچے شریک ہوں لیکن میں جو تمہارے باپوں سے زیادہ شفیق اور تمہارے بہن بھائیوں اور بیٹوں سے زیادہ محبت کرنے والا تھا تم نے مجھے اپنی خوشیوں میں شریک نہ کیا۔رسول کریم میں میا و ریمیک کی عید چائے اور ٹوسٹ سے نہیں ہو سکتی۔آپ کی عید تو تبھی ہو سکتی ہے کہ اسلام کو دلوں میں قائم کیا جائے اور آپ کے مشن کو دنیا کے کونے کونے تک پھیلایا جائے اور تمام دنیا کو آپ کے جھنڈے تلے جمع کیا جائے جب تک اس حقیقی عید کو قائم نہیں کیا جاتا آپ کی روح خوش نہیں ہو سکتی۔بد قسمت ہے وہ انسان جو ایسے محسن کے پاس جائے اور بجائے خوشی اور بشاشت کے اس کے چہرہ پر رنج اور ناراضگی کے آثار پائے۔اگر ہم نے مرنا ہے اور مرنے کے بعد ایک زندگی ہم کو ملنی ہے اور رسول کریم میلی لی ہماری ملاقات ہوئی ہے تو اس ملاقات کے لئے ہمیں تیاری کرنی چاہئے تاکہ رسول کریم میں لایا لیلی ملاقات کے وقت ناراضگی کا اظہار نہ کریں بلکہ خوشی کا اظہار کریں۔کتنے مسلمان ہیں جو معمولی معمولی باتوں پر لٹھ لے کر چل پڑتے ہیں اور اسلام کے لئے بہت جوش دکھاتے ہیں مگر کیا ان کی زندگیوں میں کوئی ایسی چیز ہے جس سے پتہ لگے کہ وہ اسلام کی حقیقت کو سمجھتے ہیں، کیا وہ با قاعدہ طور پر ہر روز پانچ نمازیں پڑھتے ہیں، کیا صحیح طور پر روزے رکھتے ہیں یا تمہیں دن کا فاقہ