خطبات محمود (جلد 1) — Page 40
۔۔۔(۶) (فرمودہ ۲۲۔جولائی ۱۹۱۷ ء مطابق یکم شوال ۱۳۳۵ھ بمقام مسجد اقصیٰ۔قادیان) اِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَاَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُوْنَ لَن وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرِيةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرَانِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِى بَايَعْتُمْ بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ التَّائِبُونَ الْعَابِدُونَ الْحَامِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّاكِعُونَ السَّاجِدُونَ الْأَمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللَّهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِيْنَ - ا آج کے دن کا نام اس نام کے علاوہ جو ہفتہ کے دنوں کا ہوتا ہے ایک اور بھی ہے۔اس دن کو لوگ عید کہتے ہیں لیکن بہت کم لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ عید کیا ہوتی ہے۔چھوٹے بچے جو ابھی اماں اور ابا بھی نہیں کہہ سکتے وہ بھی خوش ہیں کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ دوسرے لوگ خوش ہیں۔پھر جو ان سے بڑے ہیں وہ بھی خوش ہیں کہ ان کے کپڑے بدلے جا رہے ہیں انہیں نہلایا دھلایا جا رہا ہے، ان کو مٹھائیاں دی جارہی ہیں اور آج ان کی پہلے دنوں کی نسبت کچھ زیادہ خاطر تواضع ہو رہی ہے۔پھر وہ بھی خوش ہیں جو سکولوں میں پڑھتے یا کوئی اور کام کرتے ہیں کیونکہ آج انہیں چھٹی ہے۔بچے خوش ہیں کہ عید جس کی آمد کا وہ کئی دن سے انتظار کر رہے تھے آگئی ہے۔مگر اس لئے خوش نہیں کہ وہ عید کو جانتے ہیں بلکہ ان کی خوشی صرف اس لئے ہے کہ انہیں آج پہلے کی نسبت اچھی اور زیادہ چیزیں کھانے کو ملی ہیں۔کپڑے بدلے گئے ہیں۔بڑے لڑکے بھی خوش ہیں اس لئے نہیں کہ وہ عید کو جانتے ہیں بلکہ اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس کے ذریعہ مدرسہ سے آزادی ملی ہے۔بہت لوگوں نے میلے دیکھے ہوتے ہیں وہ عید کو بھی ایک میلہ سمجھ کر خوش ہوتے ہیں کیونکہ اجتماع کا اثر دماغ پر پڑتا ہے اور اس خیال میں اکثر بچے، جوان، بوڑھے سب ہی شامل ہیں کہ فلاں جگہ اجتماع ہے وہاں جائیں۔مگر ان میں سے کثیر حصہ ایسا ہے جو نہیں جانتا کہ آج وہ خوش کیوں ہے آج وہ کونسی