خطبات محمود (جلد 1) — Page 393
۳۹۳ جانے کے بعد پہنچی ہے۔ایک نقطہ نگاہ نے مدینے کے لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑا دی مگر دوسرے نقطہ نگاہ نے حضرت عائشہ کی آنکھوں سے آنسو جاری کر دیئے۔یہی نقطہ نگاہ عید کے متعلق بھی ہو سکتا ہے۔رسول کریم میں لیا لیلی نے فرمایا ہر قوم کے لئے کچھ خوشی کے دن ہوتے ہیں ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے عید کا دن خوشی کا دن مقرر کیا ہے ۵ لیکن آج ہمارے لئے بلکہ ہر مومن کے لئے وہ خوشی کا دن نہیں رہا۔میں نے حضرت عائشہ کی مثال آپ لوگوں کو سنائی ہے جس طرح میدے کی روٹی نے حضرت عائشہ کے دل میں یہ خواہش پیدا کر دی کہ رسول کریمی ان کے ساتھ شریک ہوتے اسی طرح ہر شخص اپنے پیارے کو اپنی خوشی میں شریک کرنا چاہتا ہے۔ہم بچوں کو دیکھتے ہیں وہ عجیب مضحکہ خیز کھیلیں کھیلتے ہیں اور اپنے ابا اور اماں کو پکڑ پکڑ کر کھینچتے ہیں کہ وہ بھی ان کی کھیل میں شریک ہوں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کھیل بہت مزے کی چیز ہے۔یا جب ماں باپ بچوں کو (JuJu Bes) جو جو بیر لا کر دیتے ہیں تو بچے اسے چاہتے چاہتے ماں کے پاس چلے جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اسے اپنی ماں کی زبان پر بھی چھوائیں اور ان کی ماں بھی ان کے اس مزے میں شریک ہو۔بعض مائیں جو زیادہ نظافت پسند ہوتی ہیں وہ کراہت کرتی ہیں کہ بچے کے منہ سے نکلی ہوئی چیز اپنے منہ میں ڈالیں لیکن بعض مائیں بچوں کی محبت کی زیادتی کی وجہ سے نظافت کا خیال چھوڑ کر اپنی زبان باہر نکال دیتی ہیں تو بچہ اس پر مٹھائی رکھ دیتا ہے اور پھر بہت خوش ہوتا ہے کہ اس نے اپنی ماں کو بھی اپنی مٹھائی میں شامل کر لیا۔یہ تو ایک طبعی جذبہ ہوتا ہے کہ انسان اپنے آرام اور خوشی میں اپنے پیاروں کو بھی شامل کرنا چاہتا ہے اور وہ شامل نہ ہوں یا نہ ہو سکیں تو اسے تکلیف ہوتی ہے۔جیسے شاعر نے کہا ہے۔خاک ایسی زندگی پر ہم کہیں اور تم کہیں یعنی گو میں زندہ تو ہوں لیکن چونکہ تم میری زندگی میں شریک نہیں اس لئے زندگی کا کوئی لطف نہیں۔جب زندگی کے عام ایام میں اپنے محبوب کے پاس نہ ہونے کی وجہ سے یہ حالت ہوتی ہے کہ زندگی بے کیف ہو جاتی ہے تو خوشی کے دنوں میں یا عید کے موقع پر کیوں بے چینی کی حالت پیدا نہ ہو۔میں نے بیسیوں ماؤں کو دیکھا ہے کہ وہ ایسے موقعوں پر کھاتی بھی جاتی ہیں اور ساتھ آہیں بھی بھرتی جاتی ہیں۔ان کے بچے کسی کالج میں پڑھتے ہیں یا کسی ملازمت میں ہوتے ہیں تو مائیں گھر بیٹھے کہتی رہتی ہیں ، پتہ نہیں میرے بچے کو آج یہ چیز ملی ہے یا نہیں۔وہ