خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 357

۳۵۷ گھڑے میں اس نے دودھ ڈالا ہوا ہو اسے توڑ دیا جائے۔یا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کر سکتا ہے کہ جس مشک میں اس نے پانی ڈالا ہوا ہو اسے چیر دیا جائے یا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کر سکتا ہے کہ جس صندوق میں اس نے خلعتیں رکھی ہوئی ہوں اسے ضائع ہونے دیا جائے۔جب پسند نہیں کر سکتے تو کیا تم خدا تعالیٰ کو ایسا بیوقوف سمجھتے ہو کہ تمہارے دل خدا تعالیٰ کی نورانی خلعتوں کے صندوق بن جائیں، تمہارے دل خدا تعالیٰ کے برکتوں والے علم کے دودھ کے گھڑے بن جائیں، تمہارے دل خدا تعالیٰ کی رحمتوں والے پانی کی مشکیں بن جائیں اور پھر وہ دنیا کو اس بات کی توفیق دے دے کہ وہ تمہارے اس صندوق کو توڑ دے ، تمہارے اس گھڑے کو پھوڑ دے اور تمہاری اس مشک کو چیر دے۔اگر تمہارے دلوں میں قرآن شریف آ جائے تو یقینا یقیناً دنیا کی کوئی طاقت تم پر غالب نہیں آسکتی۔تم خدا کا خزانہ ہو گے تمہارا مرنا خدا کے دین کا مرنا تمہاری شکست خدا کے دین کی شکست اور تمہاری بربادی خدا کے دین کی بربادی ہوگی۔پس ایسا کرو کہ تم میں سے ہر شخص قرآن کریم کے ترجمہ اور اس کے منا آگاہ ہو جائے۔بے شک رمضان میں قرآن شریف سنایا گیا ہے مگر سوال یہ ہے کہ رمضان میں کتنے لوگوں نے قرآن شریف کا درس سنا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس درس میں صرف تمھیں چالیس عورتیں شامل ہوتی تھیں حالانکہ قادیان میں تین چار ہزار عورتیں ہیں۔اسی طرح مرد بھی اپنی نسبت کے لحاظ سے کم شامل ہوتے تھے۔پھر اس طرح کا سنا ہوا ادرس پڑھے ہوئے کے برابر نہیں ہو سکتا۔میں مانتا ہوں کہ ساری عورتیں قرآن کریم پڑھ نہیں سکتیں اور ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی ایک عورت بھی ایسی نہ رہے جسے قرآن کریم نہ آتا ہو مگر یہ تو ہو سکتا ہے کہ عورتوں کو اتنا قرآن سنایا جائے اتنا سنایا جائے کہ وہ ان کے لئے پڑھنے کے برابر ہو جائے۔اسی طرح اتنی عورتوں کو قرآن کریم پڑھا دیا جائے کہ ان کی وجہ سے ہر گھر قرآن کریم کا مدرسہ بن جائے اور کوئی لڑکی قرآن کریم کے ترجمہ سے ناواقف نہ رہے۔اسی طرح آج بے شک ہم ہر مرد کو قرآن کریم نہیں پڑھا سکتے مگر یہ تو ہو سکتا ہے کہ مردوں کو اتنا قرآن سنایا جائے اتنا سنایا جائے کہ وہ ان کے لئے پڑھنے کے برابر ہو جائے۔اسی طرح اتنے مردوں کو قرآن کریم پڑھا دیا جائے کہ ان کی وجہ سے ہر گھر قرآن کریم کا مدرسہ بن جائے اور کوئی لڑکا ایسا نہ رہے جسے قرآن کریم کا ترجمہ نہ آتا ہو۔پھر ہم یہ بھی کر سکتے ہیں کہ ہر شخص کے دل میں قرآن کریم کی اتنی عظمت اور محبت پیدا کر دیں کہ وہ اپنی اولاد کو قرآن کریم کی تعلیم دینا اپنا فرض سمجھے اور