خطبات محمود (جلد 1) — Page 346
سلام ۳ (۳۲) (فرموده ۱۲ اکتوبر ۱۹۴۲ء بمقام عید گاہ۔قادیان) اب رمضان گرمیوں کی طرف آرہا ہے اور عید کی نماز ایسے وقت پر ہوتی ہے کہ جس میں گرمی زیادہ ہو جاتی ہے اس لئے لازماً کچھ تو خطبوں کو چھوٹا کرنا پڑے گا اور شاید اس غرض کے لئے جگہ بدلنی بھی ضروری ہو یا پھر زائد انتظام سائبانوں کا کرنا پڑے گا اس لئے میں اس کے متعلق منتظمین کو ابھی سے توجہ دلا دیتا ہوں۔آج بھی باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے صبح بارش نازل کر دی تھی کافی گرمی ہے اور دھوپ میں کھڑا ہونا لوگوں کے لئے مشکل ہو رہا ہے۔پس یا تو سائبان اور خریدے جائیں اور وہ بھی آج کل خرید نے مشکل ہیں یا باغ میں پہلے کی طرح نماز عید ہوا کرے یا پھر بہت جلدی نماز ہو جایا کرے بہر حال آئندہ ان تینوں صورتوں میں سے کوئی ایک صورت اختیار کرنی چاہئے۔آج میں جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ عید کا دن جس کے معنی در حقیقت لوٹنے والے دن کے ہیں۔ہمارے لئے بہت سے سبق رکھتا ہے مگر ان میں سے ایک سبق یہ بھی ہے کہ اسلام میں عید وہی ہوتی ہے جس میں تمام لوگ جمع ہوتے ہیں اور اردگرد کے علاقہ کے لوگ ایک جگہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔چنانچہ ہماری جو چھوٹی عید کہلاتی ہے وہ بھی ایسی ہی ہوا کرتی ہے اور جو بڑی عید کہلاتی ہے وہ بھی ایسی ہی ہوا کرتی ہے اور ہمارے جمعہ کا نام ہی جمعہ ہے جس میں لوگوں کے اجتماع کا مفہوم پایا جاتا ہے۔اس کے خلاف دوسری قوموں کی عید میں اس طرح نہیں ہوتیں۔مثلاً عیسائیوں میں کرسمس کی عید ہوتی ہے اس میں لوگ اس طرح جمع نہیں ہوتے اپنے اپنے گھروں میں رشتہ دار بے شک اکٹھے ہو جاتے ہیں لیکن ہماری عیدوں کی طرح کسی ایک مقام پر سب لوگوں کا اجتماع ضروری نہیں ہو تا۔اسی طرح بعض اور قوموں میں بے شک بعض مواقع پر اجتماع ہوتا ہے مثلاً دسہرہ وغیرہ ہے مگر وہ اجتماع مذہب کا حصہ نہیں ہو تا۔یعنی ان کے مذہب نے یہ حکم نہیں دیا ہو تاکہ دسرے پر اکٹھے ہو جاؤ بلکہ اس دن وہ ایک کھیل کھیلتے ہیں اور اس کھیل کو دیکھنے کے لئے لوگ آ جاتے ہیں۔یوں تو بندر