خطبات محمود (جلد 1) — Page 339
۳۳۹ اب غور کرو اس خوشی کی کیا وجہ ہے؟ اور کیوں مسلمان اس عید کے دن خوش ہو تا ہے۔ اگر غور کرو تو تمہیں معلوم ہو گا کہ ایک مسلمان آج کے دن اس لئے خوش ہوتا ہے کہ آج ہمارے محمد میں ہم خوش ہوئے تھے۔ پس چونکہ آج رسول کریم میں یہ خوش ہوئے تھے اس لئے ہر مسلمان بھی آج خوش ہوتا ہے۔ اور یہ چیز ایسی ہے جو فطرت انسانی میں داخل ہے فطرتا ہر انسان جب اپنے محبوب کو کسی بات پر خوش دیکھتا ہے تو وہ بھی خوش ہوتا ہے۔ اس کی ایک نہایت لطیف مثال آنحضرت میں اسلام کے واقعہ میں ملتی ہے۔ رسول کریم میں کا طریق تھا کہ جب مہمان آتے تو کچھ خود رکھ لیتے اور باقی کے لئے آپ مسجد میں اعلان فرما دیتے کہ اتنے مہمان آئے ہوئے ہیں کون کون دوست انہیں اپنے گھروں میں لے جا کر کھانا کھلا سکتے ہیں۔ اس پر کوئی ایک مہمان کو اور کوئی ایک سے زیادہ مہمانوں کو اپنے ساتھ لے جاتا اور اس طرح ان کی مہمان نوازی ہو جاتی ۔ 19 تم ایک دفعہ ایک مهمان آیا ۔ رسول کریم میں سلیم نے اپنے گھروں سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ کسی گھر میں کھانے کے لئے کچھ نہیں۔ آپ نے مسجد میں اعلان کر دیا کہ ایک دوست مہمان آئے ہیں کوئی انہیں اپنے ساتھ لے جاسکتا ہے تو لے جائے۔ اس پر ایک غریب صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! انہیں میرے سپرد کر دیجئے۔ چنانچہ وہ مہمان کو اپنے ساتھ لے لے کر گھر گئے اور بیوی سے پوچھا کہ کچھ کھانے کو ہے۔ اس نے کہا کہ کچھ تھوڑا ساکھانا تو موجود ہے مگر وہ بچوں کے لئے بھی بمشکل کفایت کر سکے گا۔ میرا ارادہ یہ ہے کہ ہم کھانا اپنے بچوں کو کھلا دیں اور خود بھوکے رہیں۔ انہوں نے کہا رسول کریم میں تعلیم کی تحریک پر ایک مہمان کو میں اپنے ساتھ لے آیا ہوں اس لئے بچوں کو دلاسہ دے کر بھوکا ہی سُلا دو اور کھانا مہمان کو کھلا دو۔ اس نے کہا بہت اچھا میں ایسا ہی کروں گی مگر ایک مشکل ہے اور وہ یہ کہ عرب کا مہمان اکیلا کھانا نہیں کھاتا وہ ضرور اصرار کرے گا کہ ہم بھی اس کے ساتھ کھانا کھائیں اور چونکہ کھانا صرف اس کے لئے ہے اس لئے ہمیں سخت مشکل پیش آئے گی ہم اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے سے انکار بھی نہیں کر سکیں گے اور کھا بھی نہیں سکیں گے کیونکہ کھانا تھوڑا ہے۔ پردہ کا حکم اُس وقت تک نازل نہیں ہوا تھا ۔ ۲۰، اور عرب کے دستور کے مطابق مہمان گھر والوں کو بھی کھانے میں اپنے ساتھ شامل کرنے پر اصرار کیا کرتا تھا۔ اس آخر کچھ سوچنے کے بعد وہ صحابی کہنے لگے میرے نزدیک اس کا حل یہ ہے کہ جب ہم سب کھانا کھانے بیٹھیں تو