خطبات محمود (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 522

خطبات محمود (جلد 1) — Page 332

۳۳۲ شوجی کے جوا کھیلنے کی یاد گار میں منایا جاتا ہے اور کوئی اسے کسی بزرگ کی طرف منسوب کرتا ہے۔زیادہ تر یہ خیال رائج ہے کہ رام چندر جی جب بن باس سے واپس آکر تخت نشین ہوئے تھے تو ان کی تخت نشینی کی خوشی میں یہ دن منانا شروع کیا گیا تھا۔جیسے بادشاہ کی تخت نشینی چراغاں کیا جاتا ہے اسی طرح دیوالی کے موقع پر چراغاں کیا جاتا ہے۔پس میرا ذہن فورا اس طرف منتقل ہوا کہ دنیا میں وہ کامیابیوں کی یادگاریں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک تو قریب کی کامیابی کی یادگار ہے اور دوسری اتنی پرانی کامیابی کی یادگار ہے کہ تاریخ سے اس یادگار کی حقیقی وجہ تک معلوم نہیں ہوتی اور لوگ مختلف قسم کے خیالات رکھتے ہیں۔کوئی اسے شوجی کے جوئے کی یادگار قرار دیتا ہے اور کوئی رامچندرجی کی تخت نشینی کی یادگار قرار دیتا ہے۔غرض ایک طرف تو وہ کامیابی ہے جس کی تاریخ تک مٹ چکی ہے مگر پھر بھی اس کی یادگار کو بڑے اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے اور دوسری طرف ایک لڑائی ہماری آنکھوں کے سامنے ہوئی ہے۔اتنی عظیم الشان لڑائی کہ اس کے مقابلہ میں رام چندر جی کی لڑائی کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتی۔بس یوں سمجھ لو کہ ایک طرف انگریزوں، روسیوں ، جرمنوں اور اٹلی والوں کی فوجیں لڑ رہی ہوں اور دوسری طرف گاؤں کے دو نوجوان گت کا لے کر مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوں جو نسبت ان دونوں کی آپس میں ہو سکتی ہے۔وہی نسبت اس جنگ کی اور رام چندر جی کی جنگ کی ہے۔یہ اتنی عظیم الشان لڑائی تھی کہ اس میں ساری دنیا کے لوگ شامل تھے اس میں جرمنی بھی شامل تھا، اس میں ترکی بھی شامل تھا اس میں رومانیہ بھی شامل تھا، اس میں بلغاریہ بھی شامل تھا، اس میں سرو یہ بھی شامل تھا، اس میں پولینڈ بھی شامل تھا، اس میں روس بھی شامل تھا اس میں پرتگال بھی شامل تھا اس میں انگلستان بھی شامل تھا اس میں فرانس بھی شامل تھا اس میں جاپان بھی شامل تھا اس میں ہندوستان بھی شامل تھا، اس میں مصر بھی شامل تھا، اس میں عرب بھی شامل تھا، اس میں چین بھی شامل تھا، پھر اس میں امریکہ بھی شامل ہوا اور جنوبی امریکہ کی بعض سٹیٹس نے بھی لڑائی کی تائید میں اعلان کر دیا غرض سارا جہان اس لڑائی میں شامل ہوا۔پھر سامانِ حرب یہ نہیں تھا کہ وہ ایک دوسرے پر پتھر مارتے تھے یا غلیل چلاتے تھے یا تیراندازی کرتے تھے یا صرف تلوار سے کام لیتے تھے جیسے رام چندر جی نے تلوار یا تیرے دشمن کا مقابلہ کیا بلکہ اس جنگ میں بم چلائے جاتے تھے۔ایسی ایسی تو پوں سے کام لیا جاتا تھا جو پچھتر پچھتر میل تک گولے پھینکتی تھیں اسی طرح ہوائی جہازوں کو لڑائی میں استعمال کرنے کا کام