خطبات محمود (جلد 1) — Page 331
۳۳۱ طرح ایک عیسائی اور یہودی کے دل میں بھی اگر وہ ہندوستان میں رہتے ہوں بہار کے موسم میں جب سخت سردی جاتی رہتی ہے یا برسات کے موسم میں جب گرمی کے بادل اُٹھ اُٹھ کر آتے ہیں خوشی کی لہر پیدا ہو جائے گی۔ چنانچہ بغیر اس کے کہ کسی کا کیا مذہب ہے ان دنوں ہر شخص راحت اور آرام محسوس کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کچھ دیر کے لئے ایسی جگہ جائے جو زیادہ آرام دہ ہو۔ اس طرح ہر شخص ان ایام کو خوشی کے ساتھ بسر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر باقی ایام جو موسمی تغیرات کے ساتھ تعلق نہیں رکھتے ان کا اگر ہم دینی واقعات کے ساتھ تعلق رکھنے والے خوشی کے دنوں سے مقابلہ کریں تو ہمیں عظیم الشان فرق نظر آتا ہے اور پتہ لگتا ہے کہ انبیاء کے کاموں یا ان کے اظلال سے تعلق رکھنے والی باتوں میں اور دنیا کی کسی اپنی قائم کردہ یادگار میں کسی قدر نمایاں امتیاز ہوتا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ اس سال ہندوؤں کا تہوار دیوالی اور مسلمانوں کا تہوار عید دونوں اکٹھے آ گئے ہیں یعنی کل دیوالی کے ایام ختم ہوئے ہیں اور آج عید آگئی ہے۔ بعض دفعہ اس طرح اکٹھے ایام آجانے سے انسان کے خیالات کی رو خاص طرف منتقل ہو جاتی ہے۔ ہم جو سندھ میں زمینداری کرتے ہیں اور جہاں سلسلہ کی زمینیں بھی ہیں اور میری اپنی زمینیں بھی وہاں ہمارے ایجنٹ ہندو ہوتے ہیں کیونکہ یہ کام گلی طور پر انہی کے ہاتھ میں ہے اس سال دیوالی کے قریب ان کے میرے نام تاریں آئیں کہ اس دن ہمیں کوئی چیز بیچنے یا خریدنے کی اجازت دی جائے اور بعض نے تو خط بھی لکھے کہ ہمارے نزدیک یہ دن بہت مبارک ہوتا ہے اور اس میں جو سودا کیا جائے وہ نفع مند سمجھا جاتا ہے اس لئے ہمیں اس دن کوئی چیز خرید نے یا بیچنے کی اجازت دی جائے۔ میں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ اس میں شرک کی کوئی بات نہیں انہیں اجازت دے دی اور میں نے خیال کیا کہ ان کا دیوالی کے دن خرید و فروخت کے لئے متبرک قرار دینا ایسا ہی ہو گا جیسے رسول کریم ملی ایم نے فرمایا ہے کہ میری امت کے لئے جمعرات اور پیر کے دنوں میں سفر کرنے میں برکت رکھی گئی ہے۔ ۲۔ ممکن ہے ان میں سے کوئی اخلاص کے ساتھ کا کام کرے تو اس کے لئے یہ برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے قدیم زمانہ میں دیوالی میں رکھی گئی ہو اس لئے میں نے انہیں اجازت دے دی مگر ساتھ ہی فورا میرا ذہن ایک نئے مضمون کی طرف منتقل ہو گیا۔ دیوالی کا تہوار اتنا پرانا ہے کہ اس کی تاریخ ہی دنیا سے مٹ چکی ہے عجیب عجیب قسم کے خیالات ہیں جو ہندوؤں میں رائج ہیں۔ کوئی کہتا ہے یہ دن اگر