خطبات محمود (جلد 1) — Page 322
۳۲۲ پوری فرمانبرداری کریں نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی عید بہت جلد آگئی۔۳۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کا واقعہ بھی بتاتا ہے کہ خدا تعالی بنی اسرائیل کے لئے کتنی جلدی عید لانا چاہتا تھا ، مگر بندوں نے اسے کس طرح دور کر دیا۔خدا نے تو چاہا تھا کہ وہ انہیں ارضِ مقدسہ میں موسیٰ علیہ۔السلام کی زندگی میں ہی لے جائے اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چالیس سال پہلے انہیں ارض مقدسہ میں لے جانا چاہتا تھا مگر بندوں نے اسے پیچھے ڈال دیا۔کہ گویا خدا تو ان کے لئے عید کا دن جلد لانا چاہتا تھا مگر انہوں نے اپنے اعمال سے اسے کسی اور وقت پر ڈالی دیا۔ہماری جماعت کو بھی غور کرنا چاہئے کہ وہ اپنے لئے جلد سے جلد عید کا دن لانے کی کوشش کر رہی ہے یا اس عید کو اور زیادہ پیچھے ڈال رہی ہے۔جن قوموں کے سامنے کوئی عید موجود نہیں ہوتی انہیں اپنی کامیابی میں شک ہو سکتا ہے لیکن ہماری جماعت کو اس عید کے آنے میں کیا شک ہو سکتا ہے جب کہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس عید کا اسی طرح وعدہ کیا ہوا ہے کہ جس طرح اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کے ساتھ کیا اور جس طرح حضرت مسیح ناصری کی جماعت کو اس نے وعدہ دیا۔وہ پس اس وعدے کا اسی طرح پورا ہونا ضروری ہے جس طرح وہ پہلے انبیاء کے زمانہ میں پورا ہو تا رہا کیونکہ وہ خدا جو نوح کے زمانہ میں تھا آج بھی ہے ، وہ خدا جو ابراہیم کے زمانہ میں تھا آج بھی ہے ، وہ خدا جو موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں تھا آج بھی ہے وہ خدا جو عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں تھا آج بھی ہے اور وہ خدا جو محمد رسول اللہ علیہ کے زمانہ میں تھا آج بھی ہے۔پھر ہماری جماعت کو غور کرنا چاہئے کہ کیوں اس کیلئے اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید نازل ہونے میں دیر کر رہی ہے یقیناً اس نصرت اور تائید کے دیر میں آنے کی وجہ یہ ہے کہ ہماری طرف سے کوتاہیاں ہو رہی ہیں اور ہماری غفلتیں اور ستیاں اس میں روک بن رہی ہیں۔اگر ہم اپنی کو تاہیوں کو دور کر دیں تو یقینا وہ ابتلاء کا زمانہ وہ آزمائش کا زمانہ اور وہ امتحان کا زمانہ جو ہر نبی کی جماعت کے لئے مقدر ہوتا ہے اسی طرح چھوٹا ہو جائے جس طرح رسول کریم میل ل ل ا ل لیول کے زمانہ میں چھوٹا ہوا۔رسول کریم پر وفات نہیں آئی جب تک آپ نے اسلام کو عرب میں قائم نہیں کر دیا۔کہ اور صحابہ پر اس وقت تک وفات نہیں آئی جب تک ساری دنیا پر اسلام غالب نہیں آگیا۔بے شک مسیحی صفت انبیاء کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو سلوک ہوتا ہے وہ موسوی صفت انبیاء