خطبات محمود (جلد 1) — Page 318
۳۱۸ روحانی خزانہ آیا ہے اور چور اچکوں، جیب کاٹنے والوں کی طرف سے حملہ کا خطرہ ہے اور اب وہ خزانہ چُرانے کی اور اگر یہ نہ ہو سکے تو تمہارے گھر کو آگ لگانے کی کوشش کریں گے تایہ خزانہ ضائع ہو جائے اس لئے تمہیں چاہئے کہ زیادہ ہوشیار رہو۔اب تمہارے لئے زیادہ نازک مقام ہے اب اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پکارنے کی زیادہ ضرورت ہے اور اب وقت ہے کہ زیادہ فکر کے ساتھ ہم اپنے خزائن کی حفاظت کریں۔اور اللہ تعالی سے دعا کریں کہ خدایا ! پہلے ہم بالکل فقیر اور حقیر تھے۔چور ڈاکو کی ہم پر نظر نہ پڑتی تھی مگر اب تو نے اپنے فضل سے ہمیں ایک خزانہ بخشا ہے کیونکہ تو نے روزوں کی توفیق دی۔دنیوی خزانے نظر آتے ہیں اور انسان ان کی حفاظت کا تھوڑا بہت انتظام کر سکتا ہے پھر اس کو چرانے والا چور بھی نظر آ سکتا ہے مگر یہ خزانہ بھی نظر نہیں آتا اور اس کا چرانے والا بھی نظر نہیں آسکتا۔اگر یہ چوری ہو ہائے تو ہمیں مہینوں اس کا علم بھی نہیں ہو سکتا کہ کس طرح چلا گیا۔پھر دنیوی خزانہ چرانے والے کا تو ہم کھوج بھی لگا سکتے ہیں مگر اس کا پتہ بھی نہیں لگ سکتا کہ کہاں گیا اس لئے اے ہمارے خدا! تو ہی اس خزانہ کی حفاظت فرما۔تو نے ہی ہمیں یہ بخشا ہے اور تو ہی اس کی حفاظت فرما۔تاہم پھر خالی ہاتھ تیرے پاس نہ آئیں۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ملنا اتنا مشکل نہیں جتنا ان کا سنبھالنا ہوتا ہے۔پس آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ نے رمضان میں جو فضل ہم پر نازل کیا ہے اسے ہم محفوظ رکھ سکیں۔اس کے علاوہ اسلام اور جماعت کی ترقی کے لئے بھی دعائیں کریں اور جماعت کی ترقی کے ساتھ جو خرابیاں پیدا ہو جایا کرتی ہیں ان سے محفوظ رہنے اور ان کے دور ہونے کے لئے بھی دعائیں کریں۔اپنی ذات کے لئے بھی اور اپنے متعلقین اور دوست احباب کے لئے بھی دعائیں کریں۔اب خطبہ کے بعد میں جو دعا مانگوں گا اس میں بھی دوست یہ دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ ہم سب پر اپنا فضل نازل کرے۔تا یہ خزانہ جو ہمیں ملا ہے ایسا ہو جو ہم اس کے حضور لے جاکر رکھ سکیں اور تحفہ کے طور پر پیش کر سکیں۔خدا تعالیٰ کے حضور تحفہ پاک دل اور پاک ایمان کا ہی پیش کیا جا سکتا ہے اسے اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا کرے کہ ہم اس کے حضور کوئی قابل قدر تحفہ پیش کر سکیں۔الانعام: ۸۰ ملفوظات جلد ۹ صفحه ۲۱ الفضل ۵- دسمبر ۱۹۳۹ء)